ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن فیصل آباد یاسر عمر نے کہا ہےکہ ملک میں بانس کی 1200 سے زائد اقسام کاشت کرکے فرنیچر انڈسٹری کو مزیدفروغ دیاجاسکتاہے جس سے تجارتی پیمانے پر بانس سمیت اس کی مصنوعات تیار کرکے برآمد سے قیمتی زرمبادلہ کاحصول بھی ممکن ہو سکتاہے
ملک میں بانس کی 1200 اقسام کاشت کرکے فرنیچر انڈسٹری کو مزیدفروغ دیاجاسکتاہے ،ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن فیصل آباد

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 23 ستمبر (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن فیصل آباد یاسر عمر نے کہا ہےکہ ملک میں بانس کی 1200 سے زائد اقسام کاشت کرکے فرنیچر انڈسٹری کو مزیدفروغ دیاجاسکتاہے جس سے تجارتی پیمانے پر بانس سمیت اس کی مصنوعات تیار کرکے برآمد سے قیمتی زرمبادلہ کاحصول بھی ممکن ہو سکتاہے۔انہوں نے بیان میں کہا کہ مستقبل میں بانس کی ضرورت میں مزید اضافہ ہو گا نیز پاکستان میں بانس کی پیداوارکے حوالے سے انتہائی سازگار زمینی و موسمی وسائل موجودہیں جن سے استفادہ کرکے بھر پور مالی منافع حاصل کیاجاسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مشینی انقلاب کے ذریعے بانس انڈسٹری کو فروغ دے کر اس کے کاروباری امکانات بڑھائے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بانس گھاس کے طور پر اگایا جاتا ہے اور اسے دنیا کی بلند ترین گھاس کی فصل کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ کا نظام نہ ہونے سے بانس کی فصل کو کسانوں میں زیادہ منافع کےلئے قبولیت کی حد تک متعارف نہیں کرایا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت ملک کا صرف ایک فاریسٹری کالج قائم ہے جبکہ اس قسم کے اداروں کی تمام صوبوں میں ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانس کو فرنیچر سازی کے ساتھ ساتھ پلپ اور پیپر انڈسٹری کےلئے خام مال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے نیز بانس سے بنے ہوئے گھر موسمی اثرات سے محفوظ اور زلزلے سے کم نقصان کے حامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانس کے ذریعے گارمنٹس، دستکاریاں، مشروبات، چارکول، سائیکلیں، کاسمیٹکس اور پردے بھی بنائے جاتے ہیں جبکہ اسے تجارتی سطح پر ان مقاصد کےلئے استعمال کر کے خطیر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔







