موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے دباؤ، قدرتی وسائل میں کمی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب کے تناظر میں زرعی محققین، جامعات، محکمہ زراعت توسیع، کاشتکاروں اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط روابط کو رواج دینا ناگزیر ہے
موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجز کے حل کیلئے زرعی اداروں،محققین،کاشتکاروں اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط روابط ناگزیر ہیں، وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 29 ستمبر (اے پی پی):موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے دباؤ، قدرتی وسائل میں کمی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب کے تناظر میں زرعی محققین، جامعات، محکمہ زراعت توسیع، کاشتکاروں اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط روابط کو رواج دینا ناگزیر ہے۔
ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے ریجنل ایگریکلچر فورم سنٹرل پنجاب کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سائنسی تحقیق کو ایسی ٹیکنالوجیز اور زرعی طریقوں میں ڈھالنے کی ضرورت ہے جنہیں کاشتکار آسانی سے عملی طور پر اختیار کر سکیں۔ اجلاس میں موسمیاتی لحاظ سے سمارٹ زراعت کے فروغ کی ضرورت پر بھی غور کیا تاکہ قدرتی وسائل کے تحفظ، زرعی پیداوار میں اضافے اور کاشتکاروں کے ذریعہ معاش کو مستحکم بنانے کے مقاصد بیک وقت حاصل کیے جا سکیں۔ ڈاکٹر ذوالفقار علی نے اس امر پر زور دیا کہ سائنسدانوں اور کاشتکار برادری کے درمیان قریبی رابطے سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ تحقیقی ترجیحات ان عملی مسائل سے ہم آہنگ ہوں جن کا کاشتکاروں کو کھیتوں میں سامنا ہے۔
شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ زرعی تحقیق اور اس کے عملی اطلاق کے درمیان موجود خلا کو مؤثر ریسرچ، ایکسٹینشن اور فارمر روابط کے ذریعے پُر کرنے کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کے لیے قابلِ عمل حل تیار کرنے میں صنعت کے کردار کو بھی بڑھایا جائے۔ اجلاس میں زرعی تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لیے زرعی شعبے کی استعداد بڑھانے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں گندم، کپاس، چاول، گنا اور دیگر فصلوں سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ اس موقع پر ڈین کلیہ زراعت ڈاکٹر غلام مرتضیٰ، ڈاکٹر بابر شہباز، ڈاکٹر احمد ستار، ڈاکٹر کاشف سلیمی، ڈاکٹر بشریٰ سعدیہ، ڈاکٹر راؤ صابر، ڈاکٹر محمد اسلم، پروگریسو گروور سید فیصل حسن شاہ، ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن پنجاب خالد محمود اور دیگر متعلقہ ماہرین و اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔







