موسمیاتی تبدیلی پاکستانی زراعت وغذائی تحفظ کیلئے چیلنج بن چکی ہے، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین
موسمیاتی تبدیلی پاکستانی زراعت وغذائی تحفظ کیلئے چیلنج بن چکی ہے، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

مزید خبریں
لاہور۔2اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ زراعت ملکی معیشت میں بنیادی اہمیت رکھتی اور غذائی تحفظ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔
جمعہ کے روز یہاں ایکسپو سینٹر میں منعقدہ زرعی روابط کانفرنس 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی مضبوط زرعی شعبے سے وابستہ ہے، زراعت سے براہِ راست یا بالواسطہ 10 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کا روزگارمنسلک ہے۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کی زراعت و غذائی تحفظ کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے، سیلاب، شدید گرمی اور پانی کی قلت سے کسانوں کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ غذائی تحفظ اب صرف زرعی نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی استحکام اور سماجی بہبود کا معاملہ ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال زرعی شعبے نے 2.9 فیصد ترقی کی،گندم کی پیداوار29.6 ملین ٹن تک پہنچی جبکہ لائیو اسٹاک میں 3.75 فیصد ترقی ہوئی، لائیو اسٹاک کا زرعی ویلیو ایڈیشن میں حصہ62 فیصد سے زائد ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی ملکی زرعی اور برآمدی شعبے کے لیے اہم چیلنج ہے، قومی سطح پر گندم کی اوسط پیداوار تقریبا 3 ٹن فی ہیکٹر ہے، جسے تحقیق اور جدید طریقوں کے ذریعے 5 سے7 ٹن فی ہیکٹر تک بڑھایا جا سکتا ہے، کم پانی سے زیادہ پیداوار حاصل کرنا ترجیح ہونی چاہیے۔رانا تنویر حسین نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی برداشت کرنے والی اور گرمی سے مزاحم فصلوں کی اقسام پر توجہ دی جا رہی ہے، تحقیق کا حقیقی فائدہ اسی وقت ہے جب نئی ٹیکنالوجی کسان کے کھیت تک پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں، زرعی توسیعی خدمات اور نجی شعبے کے درمیان روابط مضبوط کیے جائیں گے جبکہ معیاری بیج بہتر فصل اور کسان کی خوشحالی کی بنیاد ہے۔







