نادر و نایاب شاعر اور ادیب ن م راشد کی51ویں برسی منائی گئی

اُردو زبان کو بین الاقوامی سطح پر روشنا س کرانے والے نادر و نایاب شاعر اور ادیب ن۔م۔ راشد کی51ویں برسی جمعہ 9 اکتوبر کو منائی گئی۔ ان کا اصل نام نذر محمد راشد تھا اور وہ یکم اگست 1910 کو علی پور چٹھہ، ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ن۔م۔ راشد جدید اردو شاعری کے ایک بااثر اور منفرد لب و لہجے کے حامل شاعر تھے۔میراجی کے ساتھ انہیں اردو …

اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):اُردو زبان کو بین الاقوامی سطح پر روشنا س کرانے والے نادر و نایاب شاعر اور ادیب ن۔م۔ راشد کی51ویں برسی جمعہ 9 اکتوبر کو منائی گئی۔ ان کا اصل نام نذر محمد راشد تھا اور وہ یکم اگست 1910 کو علی پور چٹھہ، ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ن۔م۔ راشد جدید اردو شاعری کے ایک بااثر اور منفرد لب و لہجے کے حامل شاعر تھے۔میراجی کے ساتھ انہیں اردو شاعری میں جدیدیت اور آزاد نظم کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔عالمی موضوعات کو ضبط ِ تحریر میں لاکر انہوں نے اُردو نظم کو ایک نئی جہد عطا کی۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی ابتدا میں وہ علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک سے بہت متاثر تھے۔ 1942 میں ن م راشد کا پہلا مجموعہ ’’ماورا‘‘ شائع ہوا جو نہ صرف اُردو آزاد نظم کا پہلا مجموعہ ہے بلکہ یہ جدید شاعری کی پہلی کتاب بھی ہے۔

ن م راشد سے قبل اُردو نظم اپنے مروضہ اصولوں پرچلتی تھی۔ن م راشد کی نظمیں ایک طرف تو ردیف و قافیہ کی جکڑبندیوں سے ماورا ہیں تو دوسری جانب ان کے موضوعات بھی زیادہ تر داخلی، علامتی اور تجریدی نوعیت کے ہیں اور ان کی نظمیں قارئین سے کئی سطحوں پر مخاطب ہوتی ہیں۔ن م راشد کے بڑے موضوعات میں سے ایک خلائی دور کے انسان کی زندگی میں مذہب کی اہمیت اور ضرورت ہے۔ ن م راشد کے تین مجموعےماورا،ایران میں اجنبی اورالانسان ان کی زندگی میں شائع ہوئے جب کہ گمان کا ممکن ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ن م راشد 9 اکتوبر 1975 کو لندن میں انتقال کر گئے۔ ان کی برسی کے موقع پر علمی و ادبی حلقوں کی جانب سے خراج تحسین پیش کیا گیا۔