خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ نفرت، عدم برداشت اور انتہا پسندی کو مسترد کرتے ہوئے جمہوریت، امن، رواداری اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں، دہشت گردی کا جواب مزید نفرت نہیں بلکہ تعلیم، انصاف، مواقع اور پرامن بقائے باہمی کے عزم سے دیا جا سکتا ہے۔
نوجوان انتہا پسندی کو مسترد ، جمہوریت اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں،خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ نفرت، عدم برداشت اور انتہا پسندی کو مسترد کرتے ہوئے جمہوریت، امن، رواداری اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں، دہشت گردی کا جواب مزید نفرت نہیں بلکہ تعلیم، انصاف، مواقع اور پرامن بقائے باہمی کے عزم سے دیا جا سکتا ہے۔
سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر اتوار کو اپنے پیغام میں خاتون اول نے کہا کہ 19 سال قبل اسی روز لاکھوں پاکستانی اپنی قائد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے برسوں کی جلاوطنی کے بعد وطن واپسی پر ان کے استقبال کے لیے کراچی میں جمع ہوئے ، وہ جمہوریت، امن اور بہتر مستقبل کی امیدیں لے کر آئے تھے تاہم دہشت گردوں نے امید اور خوشی کی اس تقریب کو خونریزی اور تباہی میں بدل دیا جس کے نتیجے میں 180 سے زائد بے گناہ افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔انہوں نے سانحہ کارساز کے شہداء کو گہرے دکھ، تشکر اور فخر کے ساتھ یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ محض سیاسی کارکن نہیں بلکہ ایسے پاکستانی تھے جو اپنے ملک کو خوف اور تشدد سے پاک مستقبل کی جانب گامزن دیکھنا چاہتے تھے، ان کے اہل خانہ آج بھی اس المناک رات کا درد اپنے دلوں میں لیے ہوئے ہیں۔
خاتون اول نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو درپیش خطرات کا بخوبی علم تھا لیکن انہوں نے انتہا پسندی کی قوتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا، ان کا یقین تھا کہ دہشت گردی کو پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ کرنے یا عوام کی جمہوری امنگوں کو خاموش کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سانحہ کارساز میں محفوظ رہیں تاہم محض 70 روز بعد دہشت گردی نے ان کی بھی جان لے لی۔
آصفہ بھٹو زرداری نے بالخصوص نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اگرچہ سانحہ کارساز کے وقت ان میں سے بیشتر بچے تھے یا ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ تاہم اس سانحے کے اسباق آج بھی ان کے لیے اہم ہیں کیونکہ ایک بہتر مستقبل کے لیے دی گئی قربانیوں کی امانت اب ان کے ہاتھوں میں ہے۔انہوں نے کہا کہ پرتشدد انتہا پسندی کا آغاز بم دھماکے یا فائرنگ سے بہت پہلے ہو جاتا ہے، جب دلیل کی جگہ نفرت، مکالمے کی جگہ عدم برداشت اور مذہب، نسل، زبان یا سیاسی اختلافات کو تشدد کے جواز کے طور پر استعمال کیا جانے لگتا ہے۔
خاتون اول نے نوجوان پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ کسی کو اپنے مذہب، محرومیوں یا امنگوں کو نفرت اور تشدد پھیلانے کے لیے استعمال نہ کرنے دیں، عدم برداشت کی تبلیغ کرنے والوں سے سوال کریں اور دہشت گردی کی ستائش کرنے والوں کو مسترد کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا کو زہریلے پروپیگنڈے، اشتعال انگیزی اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب راغب کرنے کا ذریعہ نہیں بننے دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دین انسانی جان کی حرمت کا درس دیتا ہے جبکہ آئین ہر شہری کے وقار اور مساوات کی ضمانت دیتا ہے، پاکستان کا تنوع کمزوری نہیں بلکہ ایسی قوت ہے جس کی قدر اور حفاظت کی جانی چاہیے۔
آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ نوجوان تنازعات کے بجائے تعلیمی اداروں، استحصال کے بجائے روزگار اور خوف کے بجائے اپنے ہنر اور صلاحیتوں کے مطابق مستقبل کے حق دار ہیں، قوم کی ذمہ داری ہے کہ انہیں معیاری تعلیم، مواقع اور اعتماد فراہم کرے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔انہوں نے کہا کہ سانحہ کارساز کے شہدا کو یاد کرتے ہوئے پاکستان بھر میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ہر بے گناہ شہری، بچے، استاد، پولیس اہلکار اور سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔
خاتون اول نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ان قربانیوں کو محض یاد کرنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے روزمرہ عمل سے ان کا احترام کریں، نفرت کے خلاف کھڑے ہوں، اختلافات کا احترام کریں، دوسروں کے وقار کا دفاع کریں اور تشدد و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں، جامعات، معاشرتی حلقوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو تقسیم کے بجائے افہام و تفہیم کے مراکز بنانا ہوگا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے درد ورثے میں لینے والی نسل کو ایسی نسل بننا چاہیے جو پاکستان کو اس کے سائے سے آزاد کرائے۔
ان کے لیے سانحہ کارساز ایک ذاتی صدمے کے ساتھ قومی یاد دہانی بھی ہے کہ امن، جمہوریت اور انسانی وقار کو کبھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ خاتون اول نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سانحہ کارساز کے شہدا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر و استقامت دے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شہدا کی قربانیاں ایک پرامن، روادار، جمہوری اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے تحریک کا ذریعہ بنتی رہیں گی۔








