نوجوان ڈاکٹرز جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور علم کے فروغ کے ذریعے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں،وفاقی وزیر احسن اقبال کا راشد لطیف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے زیر اہتمام منعقدہ کانووکیشن سے خطاب

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے نوجوان ڈاکٹروں پر زور دیا ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور علم کے فروغ کے ذریعے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، سی پیک کے ذریعہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آئی، سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جعلی خبروں اور پروپیگنڈے سے بچیں اور مریضوں کی نجی معلومات کے تحفظ کو یقینی بنائیں،پاکستان نے قیام کے …

لاہور۔24اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے نوجوان ڈاکٹروں پر زور دیا ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور علم کے فروغ کے ذریعے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، سی پیک کے ذریعہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آئی، سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جعلی خبروں اور پروپیگنڈے سے بچیں اور مریضوں کی نجی معلومات کے تحفظ کو یقینی بنائیں،پاکستان نے قیام کے بعد مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم پائیدار ترقی کے لیے معاشی پالیسیوں میں تسلسل، حقائق پر مبنی فیصلوں اور تحقیق و جدت کو فروغ دینا ضروری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو راشد لطیف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے زیر اہتمام کالج میں منعقدہ ساتویں کانووکیشن 2026 سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ تقسیم اسناد میں رجسٹرار یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس)کرن فاطمہ بطور مہمان اعزاز شریک ہوئیں۔ اس موقع پر چیئرمین آر ایل کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر راشد لطیف خان، سی ای او صباحت خان، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر فرخ زمان اور ڈائریکٹر زلیخا خان بھی موجود تھے۔ وائس پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر مدثر علی نے طلبہ سے حلف لیا۔کانووکیشن میں 188 طلبا و طالبات کو میڈلز اور اسناد سے نوازا گیا جن میں راشد لطیف میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے والے 147 جبکہ راشد لطیف ڈینٹل کالج سے بی ڈی ایس کرنے والے 41 طلبہ شامل تھے۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور کامیابی ملک کے مستقبل میں ان کے موثر کردار کی بنیاد بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ طب ایک ایسا شعبہ ہے جس میں لوگوں کی زندگیاں اور صحت ڈاکٹرز کے علم اور مہارت سے وابستہ ہوتی ہیں۔ ڈاکٹروں کے علم اور صلاحیتوں سے کوئی ماں صحت یاب ہو کر اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر سکتی ہے، کوئی والد اپنے خاندان کی کفالت جاری رکھ سکتا ہے اور کوئی بچہ دوبارہ اپنے والدین کی خوشیوں کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانووکیشن خوشی منانے کے ساتھ احساس ذمہ داری کا موقع بھی ہے، نجی میڈیکل کالجوں سے تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کی کامیابی میں ان کے والدین کی قربانیاں شامل ہوتی ہیں، جنہوں نے اپنی ضروریات محدود کرکے بچوں کی تعلیم اور فیسوں میں رکاوٹ نہیں آنے دی، طلبہ کو زندگی بھر اپنے والدین کی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے۔احسن اقبال نے اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ والدین اور اساتذہ وہ دو رشتے ہیں جو اولاد اور شاگردوں کو اپنے سے آگے بڑھتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اس لیے ان کا احترام ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں ٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور آنے والے پانچ برسوں میں ہونے والی ایجادات ممکنہ طور پر گزشتہ 50 برسوں کی ایجادات سے بھی زیادہ ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کے بعد مصنوعی ذہانت نے ایک بڑا انقلاب برپا کیا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں اس کا کردار بڑھ رہا ہے،طبی شعبے میں بھی جدید ٹیکنالوجیز متعارف ہو رہی ہیں جبکہ روبوٹک سرجری سمیت نئی پیش رفت میڈیکل سائنسز میں نئے امکانات پیدا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ مستقبل میں صرف دوسروں کی تیار کردہ ٹیکنالوجی استعمال کریں گے یا خود بھی علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی پیدا کرنے والی قوم بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ذہانت اور صلاحیت کی کمی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان تحقیق سے وابستہ ہوں اور ایسی ایجادات کریں جو ملک کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ معیشت کو بھی فائدہ پہنچائیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اندلس میں مسلم دور حکومت کے دوران علم و تحقیق کو فروغ ملا اور قرطبہ سمیت مختلف مراکز علم و تعلیم کے اہم مراکز بنے تاہم بعد میں اس علمی روایت سے دوری کے باعث مسلم دنیا علم اور تحقیق کے میدان میں پیچھے رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں وہی اقوام آگے بڑھتی ہیں جو علم اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی ہیں کیونکہ ان کی ایجادات دفاعی ضروریات پوری کرنے اور معیشت کو مضبوط بنانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے قیام کے بعد بہت سی مشکلات کے باوجود متعدد کامیابیاں حاصل کیں، 1947 میں ملک کے قیام کے وقت وسائل کی کمی تھی اور بعض حلقے اس کے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے لیکن پاکستان نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی، جے ایف 17 طیاروں کی تیاری سمیت دفاعی شعبے میں پیش رفت کی اور جدید ٹیلی مواصلاتی انفراسٹرکچر قائم کیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود کئی ممالک نے پاکستان کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ترقی کی۔ انہوں نے جنوبی کوریا، چین اور ویتنام کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنی ترقی کی رفتار کا جائزہ لینا اور ان وجوہات کی درست تشخیص کرنا ہوگی جن کے باعث دوسری اقوام آگے نکل گئیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ایک کامیاب ڈاکٹر مرض کی درست تشخیص کے بعد علاج تجویز کرتا ہے، اسی طرح ملکی ترقی کی راہ میں حائل مسائل کی درست نشاندہی ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ 2013 میں ملک کو لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی جیسے سنگین مسائل کا سامنا تھا تاہم بعد کے برسوں میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا، لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے گئے اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آئی۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں تبدیلیوں کے باعث سرمایہ کاری متاثر ہوئی جبکہ اگر ان پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہتا تو چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی کے مزید مواقع پیدا ہو سکتے تھے۔انہوں نے جعلی خبروں اور سیاسی تقسیم کے منفی اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو درپیش دس بڑے خطرات میں فیک نیوز اور پولرائزیشن بھی شامل ہیں، پروپیگنڈا، نفرت اور تعصب لوگوں کی سوچ کو متاثر کر سکتے ہیں اس لیے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی معلومات پر عمل یا یقین کرنے سے پہلے ان کی تصدیق ضروری ہے۔انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے ایک حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نفرت انگیز سوچ اور تعصب کے نتائج افراد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے منفی پروپیگنڈے سے بچنے اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی تلقین کی۔وفاقی وزیر نے قائداعظم محمد علی جناح کی بیماری کے دوران ان کے ذاتی معالج کی جانب سے رازداری برقرار رکھنے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں پر بھی لازم ہے کہ وہ مریضوں کی نجی معلومات اور طبی رازوں کا تحفظ کریں۔احسن اقبال نے 2025 میں بھارت کے ساتھ معرکہ حق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیرکی قیادت میں دشمن کا مقابلہ کیا اور ان کو عبرتناک شکست دی جبکہ سوشل میڈیا پر پاکستان کی صلاحیتوں کے بارے میں پھیلائے جانے والے بعض دعوے حقیقت کے برعکس ثابت ہوئے اسلئے سوشل میڈیا کے پروپیگنڈوں سے خود کو دور رکھنا چاہئے،اس تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی معلومات کو بلا تصدیق قبول نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے تناظر میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں حاصل ہونے والی عزت کو معرکہ ترقی میں تبدیل کرنا چاہیے تاکہ پاکستان علم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکے۔انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جہاں بھی رہیں، پاکستان کو یاد رکھیں اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔چیئرمین آر ایل کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر راشد لطیف خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کو دنیا بھر میں باوقار اور منفرد مقام حاصل ہے، ڈاکٹرز کی ذمہ داری ہے کہ امیر اور غریب مریضوں کو بلاامتیاز معیاری علاج معالجے کی سہولت فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی کمیونیکیشن اسکلز بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، ڈاکٹرز کو چاہیے کہ وہ مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ نرم لہجے میں گفتگو کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے پاکستان میں رہ کر آگے بڑھنے کے بہت مواقع موجود ہیں تاہم اس کے لیے محنت ضروری ہے۔سی ای او صباحت خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستانی جہاں بھی جائیں، پاکستان ان کی پہچان ہے، وطن عزیز کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔ تقریب میں فارغ التحصیل طلبہ کے والدین نے بھی شرکت کی۔

مزید خبریں