نیب نے 2026ء کے دوران 14.6 ٹریلین روپے مالیت کے سرکاری اثاثے بازیاب کرائے

قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2026ء کی تیسری سہ ماہی کے دوران 9.18 ٹریلین روپے مالیت کے سرکاری اثاثے بازیاب کرائے ہیں جس کے بعد رواں سال اب تک بازیاب کرائے گئے اثاثوں کی مجموعی مالیت 14.6 ٹریلین روپے ہو گئی ہے

اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2026ء کی تیسری سہ ماہی کے دوران 9.18 ٹریلین روپے مالیت کے سرکاری اثاثے بازیاب کرائے ہیں جس کے بعد رواں سال اب تک بازیاب کرائے گئے اثاثوں کی مجموعی مالیت 14.6 ٹریلین روپے ہو گئی ہے۔نیب کی جانب سے 19 اکتوبر کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پاکستان ریلویز کی 235,622 کنال قیمتی اراضی واگزار کرائی گئی جس کی مالیت 6.78 ٹریلین روپے ہے جبکہ مختلف صوبائی محکموں کی 866,299 ایکڑ اراضی بھی بازیاب کرائی گئی جس کی مالیت 2.395 ٹریلین روپے ہے۔نیب کے مطابق تیسری سہ ماہی میں سرکاری اثاثوں کی بازیابی پہلی دو سہ ماہیوں کے دوران بازیاب ہونے والے 5.41 ٹریلین روپے مالیت کے اثاثوں کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد زیادہ رہی۔پریس ریلیز کے مطابق پنجاب اور سندھ میں اثاثوں کی بازیابی کے لئے ٹاسک فورسز کی کارکردگی کے بعد پاکستان ریلویز اور نیب کے اشتراک سے علاقائی بیوروز کی سطح پر چھ مشترکہ ٹاسک فورسز تشکیل دی گئیں جن کی کوششوں سے ریلوے کی قیمتی اراضی کی نشاندہی، واگزاری اور تحفظ میں پیشرفت ہوئی۔نیب سکھر نے پاکستان ریلویز کی 179,072 کنال اراضی واگزار کرائی جس کی مالیت 5.06 ٹریلین روپے ہے جبکہ صوبائی محکمہ مال کی 51.41 ایکڑ اراضی بھی بازیاب کی گئی جس کی مالیت 1.14 ارب روپے ہے۔

نیب بلوچستان نے محکمہ جنگلات کی 811,967 ایکڑ اراضی بازیاب کرائی جس کی مالیت 1.71 ٹریلین روپے بتائی گئی ہے۔ نیب ملتان نے صوبائی محکموں کی 43,028 ایکڑ اراضی، مالیت 102.97 ارب روپے، اور پاکستان ریلویز کی 49,426 کنال اراضی، مالیت 1.56 ٹریلین روپے بازیاب کرائی۔اسی طرح نیب لاہور نے صوبائی حکومت کی 4,380 ایکڑ اراضی، مالیت 563.07 ارب روپے اور پاکستان ریلویز کی 7,124 کنال اراضی، مالیت 156.10 ارب روپے واگزار کرائی۔ نیب خیبر پختونخوا نے محکمہ جنگلات اور محکمہ مال کی 6,872 ایکڑ اراضی بازیاب کی جس کی مالیت 16.16 ارب روپے ہے۔نیب اسلام آباد/راولپنڈی اور نیب خیبر پختونخوا نے بحریہ ٹاؤن اور کوہستان اسکینڈل سے متعلق مقدمات میں پلی بارگین کے ذریعے 2.22 ارب روپے بھی بازیاب کئے۔پریس ریلیز کے مطابق متاثرین کو مالی ریلیف فراہم کرنے کے لئے تیسری سہ ماہی کے دوران 4,280 افراد کے بینک اکاؤنٹس میں 908.42 ملین روپے منتقل کئے گئے۔ نیب نے انسدادِ بدعنوانی کے نظام کو مؤثر بنانے اور ادارہ جاتی استعدادِ کار بڑھانے کے لئے دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کئے۔ادارے نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے تحت مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقاتی نظام ’’نیب آئی‘‘ (NAB EYE) متعارف کرایا ہے جس کا مقصد انسانی مداخلت سے پیدا ہونے والی غلطیوں اور صوابدیدی عوامل کو کم کرنے کے ساتھ تحقیقات کی رفتار اور مؤثریت میں اضافہ کرنا ہے۔

نیب کے مطابق پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی نے بھی افسران کی پیشہ وارانہ تربیت جاری رکھی اور سہ ماہی کے دوران تین خصوصی کورسز، استعدادِ کار میں اضافے کا ایک کورس، ایک ورکشاپ، ایک تربیتی پروگرام اور ایک ترقیاتی کورس منعقد کیا۔پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ مارچ 2023ء سے ستمبر 2026ء تک نیب نے مجموعی طور پر 26.1 ٹریلین روپے مالیت کے اثاثے بازیاب کئے ہیں۔ ادارے کے مطابق اس کی حکمتِ عملی میں بدعنوانی کے خلاف قانونی کارروائی، انسدادی اقدامات، ناجائز طور پر حاصل کئے گئے سرکاری اثاثوں کی بازیابی، عوامی وسائل کے تحفظ اور عوامی آگاہی میں اضافہ شامل ہے۔نیب نے سرکاری اثاثوں کے تحفظ، احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے، شفافیت کے فروغ اور متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

 

مزید خبریں