واشنگٹن ۔28نومبر (اے پی پی):امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن حملے میں زخمی ہونے والے نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں میں سے ایک سارہ بیک سٹارم دم توڑ گئیں جبکہ دوسرا اہلکار زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔اردو نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہلکار کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سارہ بیک سٹارم قابل احترام، جوان اور بہترین انسان تھیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تھینکس …
وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ میں زخمی ہونے والی نیشنل گارڈز کی خاتون اہلکار دم توڑ گئی

مزید خبریں
واشنگٹن ۔28نومبر (اے پی پی):امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن حملے میں زخمی ہونے والے نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں میں سے ایک سارہ بیک سٹارم دم توڑ گئیں جبکہ دوسرا اہلکار زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔اردو نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہلکار کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سارہ بیک سٹارم قابل احترام، جوان اور بہترین انسان تھیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تھینکس گیونگ کے موقع پر امریکی فوجیوں سے وڈیو کال پر خطاب سے کچھ دیر پہلے انہیں سارہ بیک سٹارم کی موت کا علم ہوا۔
فوجیوں سے خطاب میں صدر نے کہا کہ نیشنل گارڈ کا دوسرا اہلکار اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔اس واقعے کے ردعمل میں جمعہ کو ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان سمیت 18 دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مستقل رہائشی یا گرین کارڈ ہولڈرز کے امیگریشن سٹیٹس کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نےایکس پر لکھا کہ ایسے ممالک جن کے متعلق امریکا کو تشویش ہےان سے تعلق رکھنے والے ہر ایک شخص کے گرین کارڈ کی مکمل اور سخت جانچ پڑتال کی ہدایت کی ہے۔
یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کی ترجمان نےبتایا کہ ان میں وہ تمام ممالک شامل ہیں جن کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حکم نامے میں قابل تشویش قرار دیا تھا۔اس حکم نامے کے تحت افغانستان سمیت 12 ممالک کے شہریوں کے امریکا داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔سفری پابندی کا سامنا کرنے والے دیگر 11 ممالک میں میانمار، چاڈ، کانگو، ایکواٹوریل گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سات دیگر ممالک برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیرا لیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا کے شہریوں پر بھی جزوی سفری پابندی عائد کی تھی، ان ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو عارضی ورک ویزا پر داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔خیال رہے کہ بدھ کو ایک افغان نژاد شہری نے امریکاکے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز کے دو اہلکاروں کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا۔
تفتیش کاروں نے 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال نامی حملہ آور کا تعلق افغانستان سے بتایا ہے، جو امریکی شہری ہے اور افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ کام کر رہا تھا۔نیشنل گارڈز پر حملے میں ملوث رحمان اللہ لکنوال2021 میں ’’آپریشن ایلیز ویلکم‘‘ کے تحت امریکا آیا تھا۔
یہ وہ پروگرام تھا جس کے ذریعے امریکانے ان افغان شہریوں کو اپنے ملک میں بسایا تھا جنہوں نے افغان جنگ کے دوران امریکی فورسز کی مدد کی تھی اور جنہیں طالبان کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کے خطرے کا سامنا تھا۔








