وزیراعظم ایف بی آر اور کسٹمز میں اصلاحات، شفافیت کے فروغ اور بدعنوانی کے خاتمے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، بلال اظہر کیانی

وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف ایف بی آر اور کسٹمز کے نظام میں اصلاحات، بدعنوانی کے خاتمے اور نجی شعبے سے بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد کو حکومتی نظام کا حصہ بنانے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، کسٹمز میں شفافیت کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی فیس لیس کسٹمز کا نظام متعارف کرایا گیا ہے جس سے بہتری …

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف ایف بی آر اور کسٹمز کے نظام میں اصلاحات، بدعنوانی کے خاتمے اور نجی شعبے سے بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد کو حکومتی نظام کا حصہ بنانے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، کسٹمز میں شفافیت کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی فیس لیس کسٹمز کا نظام متعارف کرایا گیا ہے جس سے بہتری آئی ہے۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ بدعنوانی جیسے مسائل کے وجود سے انکار کرنا حقیقت پسندانہ طرز عمل نہیں، حکومت ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

وزیراعظم کی توجہ ایف بی آر میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ مختلف محکموں میں نجی شعبے سے بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو شامل کرنے پر بھی مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ کسٹمز کے روایتی نظام میں درآمد کنندگان اور متعلقہ افسران کے درمیان رابطے کے باعث بے ضابطگیوں کے امکانات موجود تھے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے فیس لیس کسٹمز کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت نہ درآمد کنندہ کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اس کے سامان کی جانچ کرنے والا افسر کون ہے اور نہ ہی متعلقہ افسر کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس درآمد کنندہ کے سامان کا جائزہ لے رہا ہے۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اس نظام کے حوالے سے مختلف کاروباری اداروں اور درآمد کنندگان سے حاصل ہونے والی آرا میں بہتری کی تصدیق ہوئی ہے۔

حکومت اس نظام کے عملی نتائج، کاروباری سرگرمیوں میں آسانی، سامان کی جانچ کے وقت میں کمی اور طریقہ کار میں بہتری کا جائزہ لینے کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ہوائی اڈوں پر مسافروں کے مجموعی تجربے کو بہتر بنانے کے لیے بھی ٹاسک فورس قائم کی ہے۔ اس ضمن میں کسٹمز، ایئرپورٹ سکیورٹی فورس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے سمیت متعلقہ محکموں کو مربوط انداز میں اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ مسافروں کو غیر ضروری مشکلات سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ہوائی اڈوں پر کسٹمز کے نظام میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

وزیر مملکت نے سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے کسٹمز افسران کے خلاف کارروائیوں اور سزاؤں سے متعلق اٹھائے گئے معاملے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران 31 مکمل مقدمات میں کارروائی کی گئی، جن میں ملازمت سے برطرفی سمیت مختلف نوعیت کی سزائیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقدمات میں بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ سمگلنگ میں معاونت کرنے والے افسران کے خلاف سزائیں مزید سخت ہو سکتی تھیں۔ ان مقدمات میں فیصلہ کرنے کا اختیار ایف بی آر کے متعلقہ رکن اور اپیل کا اختیار چیئرمین ایف بی آر کے پاس ہوتا ہے۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے اٹھائے گئے مقدمات کی تفصیلات کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا متعلقہ معاملات میں مناسب کارروائی اور سزا دی گئی یا نہیں۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ کسٹمز کے 114 اور ان لینڈ ریونیو سروس کے 113 افسران کے خلاف شکایات اور کارروائیوں سے متعلق تفصیلات بھی مرتب کی گئی ہیں، جن میں افسران کے نام، عہدے، الزامات اور ان کے خلاف کیے گئے اقدامات شامل ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ اگر ایوان ہدایت دے تو متعلقہ قائمہ کمیٹی میں ہر مقدمے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جا سکتی ہے۔ حکومت کسٹمز کے نظام میں کی جانے والی اصلاحات، کاروباری طبقے کی آرا اور ان اقدامات کے عملی نتائج سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

 

مزید خبریں