وزیراعظم شہباز شریف نے پیداواری لاگت میں اضافے کے پیشِ نظر گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کردی

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیداواری لاگت میں اضافے کے پیشِ نظر گزشتہ سال کی نسبت گندم کی قیمت میں 1,000 روپے فی من اضافہ کرتے ہوئے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کردی

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیداواری لاگت میں اضافے کے پیشِ نظر گزشتہ سال کی نسبت گندم کی قیمت میں 1,000 روپے فی من اضافہ کرتے ہوئے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کردی۔وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے ملکی زرعی شعبہ کے فروغ ، کسانوں کے معاشی مفادات کے تحفظ اور آئندہ سال گندم کی پیداوار میں اضافہ کیلئے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سال 2027 کی گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کی ہے، گذشتہ سال گندم کی قیمت 3500 روپے فی من مقرر تھی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور قائد محمد نواز شریف کی رہنمائی اور وزراء اعلیٰ پنجاب و سندھ کی مشاورت و تعاون شامل حال رہا۔

اس فیصلے کیلئے مشاورتی عمل میں تعاون اور قابلِ قدر تجاویز پیش کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم نے ان کے اس مشاورتی عمل میں کردار کی تعریف کی۔وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گندم کی مجوزہ قیمت میں اضافے کا مقصد کسانوں کو بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت ، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے دباؤ سے ریلیف فراہم کرنا ہے۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ کسانوں کو گندم کی کاشت کے لئے مؤثر ترغیب دینا فیصلے کے اولین مقاصد میں شامل ہے،توقع ہے کہ نئی مجوزہ قیمت سے کسانوں کو اپنی پیداواری لاگت پوری کرنے اور مناسب منافع حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران کسانوں کو مہنگائی اور زرعی اخراجات میں اضافے کے باعث مالی مشکلات کا سامنا رہا جبکہ پاکستان کو گزشتہ دو برسوں میں گندم کی درآمد بھی کرنا پڑی،گندم کی مجوزہ قیمت میں اضافہ کا کلیدی فیصلہ ملکی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے، مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی اور زرعی شعبے میں استحکام کے لئے اہم پیشرفت ثابت ہو گا۔حکومت کو توقع ہے کہ مجوزہ قیمت کے تعین سے کاشتکار گندم کی کاشت میں زیادہ دلچسپی لیں گے جس کے نتیجے میں آئندہ سیزن میں گندم کی بھرپور بوائی اور ملکی پیداوار میں اضافے کے امکانات روشن ہوں گے۔وزیراعظم کا یہ اقدام کسانوں کی معاشی بہتری، زرعی معیشت کے استحکام اور ملک کو غذائی ضروریات کے ضمن میں زیادہ خودکفیل بنانے کی کوششوں میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ توقع ہے کہ سال 2027 پاکستان کے زرعی شعبے اور کسانوں کی خوشحالی کے لئے مثبت نتائج کا حامل ہوگا۔

 

مزید خبریں