وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ، ایف بی آر میں اصلاحات اور فیس لیس نظام کے نفاذ کوتیز کرنے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ، ایف بی آر میں اصلاحات اور فیس لیس نظام کے نفاذ کوتیز کرنے کی ہدایت

اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایف بی آر میں اصلاحات کی رفتار میں تیزی لانےاور ٹیکس وصولی کے شعبوں میں فیس لیس نظام کے نفاذ کو تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف بی آر میں اصلاحات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ٹیکنالوجی، موثر تربیت، شفافیت اور جوابدہی پر خصوصی توجہ دی جائے،ایف بی آر میں بدعنوان عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔پیر کو وزیر اعظم آفس کے میڈیاونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعظم نے ایف بی آر میں اصلاحات کی رفتار میں تیزی لانے کی ہدایت کی اور کہا کہ ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزاء ہیں،ٹیکس گیپ پر قابو پانے کے لیے ایف بی آر کی استعداد کار میں مسلسل بہتری لائی جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ٹیکنالوجی، موثر تربیت، شفافیت اور جوابدہی پر خصوصی توجہ دی جائے۔انہوں نے ٹیکس وصولی کے شعبوں میں فیس لیس نظام کے نفاذ کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کی توقعات کے مطابق اپنی کارکردگی بہتر کریں،جاری اصلاحات ریاست کے وسیع تر مفاد میں ہیں، ان کا عمل ہر صورت جاری رہے گا۔وزیراعظم نےہدایت کی کہ ایف بی آر میں بدعنوان عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے، وزیراعظم نے کہا کہ اپنے رویے اور کارکردگی میں بہتری لانے والے افسران اور عملے کو اصلاح کا موقع دیا جائے جبکہ بدعنوانی اور ناقص کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھنے والوں کے لیے ادارے میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

اجلاس کو ایف بی آر میں جاری اصلاحات کی تازہ ترین پیشرفت اور اب تک کی نتائج سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو ایف بی آر میں ٹیکنالوجی، نظام کار اور افرادی قوت کے شعبوں میں جاری اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ گزشتہ تین سال کے دوران اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس گیپ کا تخمینہ جی ڈی پی کے 6 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا ہے،ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے ایف بی آر افسران کے صوابدیدی اختیارات میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایف بی آر کے نئے افسران کو لمز (LUMS) میں تربیت دی جا رہی ہے جبکہ پہلے سے خدمات انجام دینے والے افسران کے لیے دوران ملازمت تربیتی پروگرام بھی جاری ہیں، افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے پیئر ریٹنگ سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے، ایف بی آر کی آڈٹ کی استعداد کار میں اضافے کے لیے 957 آڈیٹرز کو تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کے طور پر میرٹ کی بنیاد پر کنٹریکٹ پر تعینات کیا گیا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کی تعیناتی سے ایف بی آر کی آڈٹ کی استعداد کار میں چار گنا اضافہ ہوا ہے،ایف بی آر کی وسیع پیمانے پر تکنیکی بنیادوں پر تنظیمِ نو جاری ہے، مہارت یافتہ تکنیکی افرادی قوت کی بھرتی اور کارکردگی سے منسلک مراعات کا نظام متعارف کرایا جا چکا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور اعلیٰ سرکاری افسران شریک ہوئے ۔