وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پشاور میں وفاقی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ، ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے ، دہشت گرد نیٹ ورکس ،سہولت کاروں اور معاون ڈھانچے کو ختم کرنے کے قومی عزم کا اعادہ
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پشاور میں وفاقی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ، ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے ، دہشت گرد نیٹ ورکس ،سہولت کاروں اور معاون ڈھانچے کو ختم کرنے کے قومی عزم کا اعادہ

مزید خبریں
پشاور۔22اکتوبر (اے پی پی):وفاقی ایپکس کمیٹی نے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور معاون ڈھانچے کو ختم کرنے کے قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس مقصد کے لئے تمام ریاستی اداروں کے درمیان مسلسل رابطے، خفیہ معلومات کے مؤثر تبادلے اور دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات ضروری ہیں جبکہ قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل کے ارکان نے دہشت گردی کو شکست دینے، اس کی جڑیں ختم کرنے اور مستقل امن قائم کرنے کے اپنے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے لئے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کا یقین دلایا۔ اس امر کا اظہار جمعرات کو یہاں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پشاور میں وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جبکہ وزیراعظم نے قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل (اے آر ڈی سی ) کے ارکان سے بھی الگ ملاقات کی۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق دونوں اجلاسوں میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا ء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ خان، مشاورتی کونسل کے ارکان، قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل کے ارکان، کور کمانڈر پشاور اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو صوبے کے انتظامی امور، حکومتی نظام میں اصلاحات، اداروں کے احتساب، شفافیت اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صوبے میں طویل عرصے سے درپیش انتظامی مسائل حل کرنے اور عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لئے فوری اور مؤثر اقدامات کئے جائیں خصوصاً ضم شدہ اضلاع اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ایپکس کمیٹی نے دہشت گردی کی ہر شکل کے مکمل خاتمے اور دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور معاون ڈھانچے کو ختم کرنے کے قومی عزم کا اعادہ کیا۔اجلاس میں واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لئے تمام ریاستی اداروں کے درمیان مسلسل رابطے، خفیہ معلومات کے مؤثر تبادلے اور دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔اجلاس میں کہا گیا کہ عوام، شہدا، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔خیبر پختونخوا پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ ان اقدامات میں پیشہ وارانہ تربیت، جدید آلات، بہتر بنیادی ڈھانچے، خفیہ معلومات جمع کرنے کی صلاحیت میں اضافے اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانا شامل ہے۔
اجلاس میں زور دیا گیا کہ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور ریاستی عمل داری یقینی بنانے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مضبوط اور پیشہ وارانہ ہونا ضروری ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے عوام کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے وفاقی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ صوبے میں پائیدار امن کا قیام، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، حکومتی نظام کی بہتری اور سماجی و معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنا قومی ترجیحات ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، وفاقی حکومت عوامی فلاح، روزگار اور معاشی مواقع پیدا کرنے اور عوام کے جائز مسائل حل کرنے کے لئے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گی۔وزیراعظم نے ’’بدلتا، نکھرتا، مضبوط خیبر پختونخوا‘‘ پروگرام کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے 160 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پورے خیبر پختونخوا بالخصوص ضم شدہ اضلاع اور دیگر پسماندہ علاقوں میں تعلیم، صحت، روزگار، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے، اس مقصد کے لئے قومی سطح پر مشترکہ ذمہ داری، مقامی آبادی کی شمولیت اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مؤثر بنانا ہوگا۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ریاست دہشت گردی کو شکست دینے، پائیدار امن بحال کرنے اور خیبر پختونخوا میں استحکام، بہتر حکمرانی اور دیرپا ترقی یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ صوبے اور پاکستان کے پُرامن، محفوظ اور خوشحال مستقبل کے لئے قومی اتحاد، ثابت قدمی اور مشترکہ عزم بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل (اے آر ڈی سی ) کے ارکان نے کہا کہ پائیدار امن و سلامتی ترقی، معاشی خوشحالی اور عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لئے بنیادی شرائط ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا بالخصوص ضم شدہ اضلاع کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،ضم شدہ اضلاع میں مستقل امن کا قیام پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل کے ارکان نے دہشت گردی کو شکست دینے، اس کی جڑیں ختم کرنے اور مستقل امن قائم کرنے کے اپنے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے لئے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کا بھی یقین دلایا۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو عملی ترقی، بہتر عوامی خدمات، معاشی مواقع اور علاقے کے محفوظ مستقبل میں تبدیل کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ قوم کی اصل طاقت اتحاد اور تشدد، انتہا پسندی اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو مسترد کرنے کے مشترکہ عزم میں ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کوئی دھمکی یا تشدد خیبر پختونخوا کے عوام اور ریاست کے اس عزم کو کمزور نہیں کر سکتا کہ صوبے کے لئے پُرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم آپ کے علاقوں کے عوام کی خدمات اور قربانیوں کی مقروض بھی ہے اور ان پر فخر بھی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے لئے آخری اور فیصلہ کن کوشش کی جائے، ناکامی کا کوئی آپشن نہیں۔اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔







