وزیراعظم عمران خان کا ”سب کے لئے پائیدار ترقی کے حصول کے لئے غربت سے نمٹنے میں ماحولیاتی انتظام‘ کے موضوع پر تقریب سے خطاب

نیویارک ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امیر ممالک گرین ہاﺅس گیسز کے اخراج پر قابو پانے کے لئے ترقی پذیر ممالک کی مدد کریں، امیر ممالک میں گرین ہاﺅس گیسز کا اخراج زیادہ ہے جبکہ غریب ممالک میں ان کا اخراج کم ہوتا ہے، غریب ممالک ماحولیاتی خطرات سے پیدا ہونے والے بحرانوں کا شکار ہیں، ہماری حکومت نے ماحولیاتی مسائل سے …

نیویارک ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امیر ممالک گرین ہاﺅس گیسز کے اخراج پر قابو پانے کے لئے ترقی پذیر ممالک کی مدد کریں، امیر ممالک میں گرین ہاﺅس گیسز کا اخراج زیادہ ہے جبکہ غریب ممالک میں ان کا اخراج کم ہوتا ہے، غریب ممالک ماحولیاتی خطرات سے پیدا ہونے والے بحرانوں کا شکار ہیں، ہماری حکومت نے ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لئے 10 ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر ’سب کے لئے پائیدار ترقی کے حصول کے لئے غربت سے نمٹنے میں ماحولیاتی انتظام‘ کے موضوع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے تقریب کی مشترکہ طور پر صدارت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کا بے حد احترام کرتا ہوں۔ انہوں نے ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے کوششوں پر ڈاکٹر مہاتیر محمد کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ قومیں بدعنوانی کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بہت سے خزانوں سے نوازا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے بہت بڑی تعداد میں آبادی کو نقصان ہو سکتا ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرین ہاﺅس گیسز کے اخراج میں پاکستان کا حصہ انتہائی کم ہے، امیر ممالک جو ان گیسز کے اخراج کے ذمہ دار ہیں انہیں پاکستان جیسے ممالک کی مدد کرنی چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ سب سے کم رہا تاہم ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے خیبرپختونخوا میں ان کی جماعت نے اقتدار میں آنے کے بعد گزشتہ پانچ سال کے دوران ایک ارب 10 کروڑ درخت لگائے ہیں جبکہ ایک ارب لگانے کا ہدف ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس اقدام کی کامیابی کے بعد ان کی حکومت نے ملک بھر میں 10 ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے کیونکہ مستقبل میں ہمیں شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، گلیشیئرز کا ملک کے دریاﺅں میں 80 فیصد حصہ ہے جو کہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کرنے والے سرفہرست 10 ممالک میں شامل ہے اور گلیشیئر اسی رفتار سے پگھلتے رہے تو خطے کے کروڑوں افراد کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ترقی یافتہ ممالک میں سنجیدگی کا فقدان ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ اس رجحان سے امیر ممالک کے ساتھ ساتھ غریب اقوام پر بھی اثر پڑے گا۔ وزیراعظم نے شرکاءکو پاکستان میں سیاحت کے مواقع سے بھی آگاہ کیا ۔ ملائیشیاءکے وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ماحولیات اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں اپنی حکومت کی کوششوں اور کامیابیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر کے ساتھ ساتھ خام تیل بھی موجود ہے، ان کی حکومت قابل تجدید توانائی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2025ءتک قابل تجدید توانائی دگنی ہو جائے گی کیونکہ ان کا ملک توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے بین الاقوامی اور ماحولیاتی معیارات کی پیروی کر رہا ہے۔