اسلام آباد۔26دسمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ دسمبر کا مہینہ بڑا اہم ہوتا ہے، 25دسمبر قائد اعظم کا یوم ولادت اور 27 دسمبر محترمہ بینظیر بھٹو کا یوم شہادت، قائد اعظم کے یوم ولادت پر ہمیں یاد ہونا چاہئے کہ آج ہم کدھر کھڑے ہیں ان کے بتائے ہوئے وژن پر یا اس کے خلاف۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی پروگرام …
وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں این آر او نہیں دیں گے ہم بھی کہتے ہیں نہیں دیں گے‘وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی نجی ٹی وی سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔26دسمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ دسمبر کا مہینہ بڑا اہم ہوتا ہے، 25دسمبر قائد اعظم کا یوم ولادت اور 27 دسمبر محترمہ بینظیر بھٹو کا یوم شہادت، قائد اعظم کے یوم ولادت پر ہمیں یاد ہونا چاہئے کہ آج ہم کدھر کھڑے ہیں ان کے بتائے ہوئے وژن پر یا اس کے خلاف۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیڈر قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں این آر او نہیں دیں گے ہم بھی کہتے ہیں نہیں دیں گے، میں ان کا وکیل ہوں اور پارلیمنٹ کا ایک چھوٹا سا منسٹر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم انہیں یہ کہ رہے ہیں کہ مہربانی فرمائیں ہمیں حکومت کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ہر معاملے پر بات ہو گی سوائے کرپشن کیسز کے۔ علی محمد خان نے کہا کہ میں ایک سیاسی ورکر ہوں میں سمجھتا ہوں کہ انہیں استعفیٰ نہیں دینا چاہئے ،لیکن اگر یہ ایسا کرتے ہیں تو ہم الیکشن کرا دیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ میں چاہتا ہوںکہ ہم سب پارلیمنٹ میں آئیں ، پاکستان کو آگے لے کر جانے کیلئےمل کرکم از کم اگلے 25 سے 30 سال کی پالیسی بنائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سنجیدہ ماحول میں بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں،کسی سیاسی اور آئوٹ آف پارلیمنٹ ڈیبیٹ کے حق میں نہیں ہیں، ہماری کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے مل کر ملک اور پارلیمنٹ چلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو 10 سے 15 سال میں یہ سسٹم جو پہلے ہی آدھا گل چکا ہے شاید عوام ہی اسے باہر پھینک دیں۔ عدالتوں بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالتیں ملک کی پالیسی بنانے میں کردار ادا کرتی ہیں، خلیفہ وقت کو بھی قاضی کے سامنے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔








