وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار کی ایس ایم ایز کے کاروباری کلسٹرز کے ساتھ مالی سہولتوں تک رسائی کے حوالے سے مشاورتی نشست، بینکوں کو کاروباروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی ہدایت

وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز)، کاروباری کلسٹرز، بینکوں، سٹیٹ بینک پاکستان اور متعلقہ سرکاری محکموں کے نمائندوں کے ساتھ مشاورتی نشست منعقد کی جس کا مقصد کاروباری اداروں کو سستے اور بروقت قرضوں اور مالی سہولتوں کے حصول میں درپیش مشکلات کا جائزہ لینا تھا،اجلاس کے دوران مختلف ایس ایم ای کلسٹرز کے نمائندوں …

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز)، کاروباری کلسٹرز، بینکوں، سٹیٹ بینک پاکستان اور متعلقہ سرکاری محکموں کے نمائندوں کے ساتھ مشاورتی نشست منعقد کی جس کا مقصد کاروباری اداروں کو سستے اور بروقت قرضوں اور مالی سہولتوں کے حصول میں درپیش مشکلات کا جائزہ لینا تھا،اجلاس کے دوران مختلف ایس ایم ای کلسٹرز کے نمائندوں نے اپنے کاروباروں کو درپیش مالی مشکلات اور طریقہ کار سے متعلق رکاوٹوں کی نشاندہی کی، ان مسائل میں قرضوں کے حصول میں مشکلات، کاروبار کی توسیع، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات پوری کرنے اور کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے موزوں مالی سہولتوں تک رسائی شامل تھی۔

وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ہارون اختر خان نے شرکا کے مسائل اور تجاویز کو غور سے سنا اور اس بات پر زور دیا کہ بینکوں اور سٹیٹ بینک کو ایس ایم ای کلسٹرز کے مسائل کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہئے اور ان کے حل کے لئے مؤثر اقدامات، مناسب فالو اَپ اور جوابدہی کو یقینی بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایس ایم ایز کے لئے فنانسنگ کو دوگنا کرنے کی ہدایت کی ہے جو مالی سہولتوں تک رسائی بڑھانے اور قومی معیشت میں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے کردار کو مزید مستحکم کرنے کے لئے حکومت کے عزم کا مظہر ہے۔انہوں نے زور دیا کہ بینک قرضوں کی فراہمی کے طریقہ کار کو آسان بنانے، کاروباری کلسٹرز کے ساتھ رابطہ کاری بہتر کرنے اور اہل کاروباری اداروں کو مالی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے مربوط اور مؤثر کوششیں کریں۔

انہوں نے کہا کہ مالی معاونت کے ثمرات نچلی سطح پر کاروباری اداروں تک پہنچنے چاہئیں تاکہ پیداوار، سرمایہ کاری اور روزگار میں حقیقی بہتری لائی جا سکے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے پاکستان کی معیشت کا اہم ستون ہے اور مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی)، برآمدات اور غیر زرعی روزگار میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں تاہم مالی وسائل تک محدود رسائی بہت سے قابلِ عمل کاروباروں کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ ان مشاورتی نشستوں کا بنیادی مقصد عملی رکاوٹوں کی نشاندہی اور قابلِ عمل حل تلاش کرکے مالیاتی اداروں اور کاروباری اداروں کے درمیان موجود خلا کم کرنا ہے، اس سلسلے میں انہوں نے بینکوں، سٹیٹ بینک ، متعلقہ سرکاری محکموں اور ایس ایم ای نمائندوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری پر زور دیا تاکہ مالی سہولتیں مختلف کاروباری کلسٹرز کی حقیقی ضروریات کے مطابق فراہم کی جا سکیں۔

مشیر وزیراعظم نے کہا کہ مالی وسائل تک بہتر رسائی سے ایس ایم ایز اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں گے، مشینری کو جدید بنا سکیں گے، خام مال خرید سکیں گے، بڑے کاروباری آرڈرز پورے کر سکیں گے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکیں گے اور ملکی برآمدات میں اضافے میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔ہارون اختر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کی توجہ محض پالیسی اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے قابلِ پیمائش نتائج کے حصول پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی اداروں کو پیداواری کاروباروں کی معاونت اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ مشاورتی نشست وزارتِ صنعت و پیداوار کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ایس ایم ای کلسٹرز اور مالیاتی اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا اور براہِ راست مشاورت اور مربوط اقدامات کے ذریعے مالی سہولتوں کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔وزارتِ صنعت و پیداوار متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایس ایم ایز کے لئے سازگار کاروباری ماحول کی تشکیل، مالی وسائل تک رسائی میں بہتری، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، صنعتی ترقی اور ملک بھر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے پنی کوششیں جاری رکھے گی۔

مزید خبریں