وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار سے یونیڈو کے وفد کی ملاقات ، صنعتی ترقی، گرین انرجی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پر غور
وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار سے یونیڈو کے وفد کی ملاقات ، صنعتی ترقی، گرین انرجی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پر غور

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے (یونیڈو) کے وفد نے ملاقات کی جس میں صنعتی ترقی، بین الاقوامی تعاون، موسمیاتی تبدیلی، توانائی، مسابقت اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارتِ صنعت و پیداوار کے مطابق ملاقات کے دوران ہارون اختر خان نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اس وژن کو اجاگر کیا جس کا مقصد پائیدار صنعتی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور معاشی خود انحصاری کے ذریعے پاکستان کو ایک مضبوط اور برآمدات پر مبنی صنعتی معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان صنعتی ترقی، معاشی استحکام اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی جانب گامزن ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی بڑی نوجوان آبادی ایک اہم قومی اثاثہ ہے، تاہم صنعتی ترقی کے بغیر پائیدار معاشی پیش رفت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ممکن نہیں۔مشیر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی صنعتی پالیسی تشکیل دی گئی ہے، جس کا مقصد صنعتی ترقی کے لیے واضح سمت کا تعین، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور ملکی معیشت کی بنیادوں کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تجارتی خسارہ پر قابو پانے کے لیے برآمدات پر مبنی معاشی نمو کو فروغ دینے کے ساتھ درآمدات کے متبادل مقامی مصنوعات کی تیاری اور مقامی مینوفیکچرنگ کو بھی وسعت دینا ضروری ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان میں صنعت اور زراعت دونوں شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جس سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال، ویلیو ایڈڈ صنعتوں کی ترقی اور مقامی پیداوار کو مضبوط بنانے پر زور دیا تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں اور ملکی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت میں بھی اضافہ ہو۔موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ اس کے منفی اثرات پاکستان کی زرعی پیداوار اور صنعتی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، پائیدار توانائی کے حل اپنانے اور موسمیاتی خطرات کے مقابلے کی صلاحیت رکھنے والی صنعتی ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
مشیر وزیراعظم نے پاکستان میں قدرتی وسائل، بالخصوص قیمتی پتھروں اور دیگر قیمتی معدنیات کی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ زیتون کے تیل کی پیداوار سے لے کر قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ تک مختلف شعبوں میں صنعتی مواقع بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے ملکی وسائل سے زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے مقامی ویلیو چینز کی ترقی کو ناگزیر قرار دیا۔ماحول دوست نقل و حمل کی جانب منتقلی کے حوالہ سے ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے شعبہ میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ نئی توانائی کی گاڑیوں کی پالیسی متعارف کرائی جا چکی ہے، جبکہ ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے اور چارجنگ انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شمسی توانائی کے فروغ سے دیہی آبادی اور زرعی شعبے کے لیے توانائی کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے مجوزہ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم پالیسی کا ذکر کیا، جس کے ذریعے الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں کی مقامی تیاری کی صلاحیت کو فروغ دینے اور پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ہارون اختر خان نے کہا کہ یونیڈو تکنیکی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی، استعداد کار میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے فروغ کے ذریعے پاکستان کی صنعتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے صنعتی ترقی، قابلِ تجدید توانائی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت اور مقامی مینوفیکچرنگ کو دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان بین الاقوامی تعاون، پرامن روابط اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونیڈو جیسے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون پائیدار صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور ملکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔یونیڈو کے وفد نے پاکستان کے ساتھ تعاون کے مواقع کو سراہتے ہوئے رکن ممالک کے درمیان تجربات، تکنیکی مہارت اور بہترین عملی طریقہ کار کے تبادلہ کی اہمیت پر زور دیا۔ وفد نے قابلِ تجدید توانائی، بالخصوص شمسی توانائی، کو باہمی تعاون کے لیے ایک اہم شعبہ قرار دیا۔وفد نے قابلِ تجدید توانائی کے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی، صنعتی ویلیو چینز کو مضبوط بنانے اور جدید ٹیکنالوجی و اختراعی صنعتی طریقوں کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں اضافہ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وفد کے مطابق باہمی تعاون کو وسعت دینے سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے، ٹیکنالوجی کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔یونیڈو کے نمائندوں نے پاکستان میں ایسے عملی منصوبوں کے امکانات تلاش کرنے میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا جن کے ذریعے صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کو فروغ دیا جا سکے گا۔ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور یونیڈو کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنا کر وزیراعظم کے اس وژن کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے جس کا مقصد پاکستان کو ایک مسابقتی، پائیدار اور برآمدات پر مبنی صنعتی معیشت بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے سرمایہ کاری، جدت، مقامی مینوفیکچرنگ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔








