وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 11 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی ایک خاموش قاتل ہے جو گزشتہ چند سالوں سے شدت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے، گذشتہ دہائی کے دوران ماحولیاتی تنزلی کی وجہ سے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا نقصان 6 فیصد سے بڑھ کر 9 فیصد ہو گیا ہے جس میں فضائی آلودگی …

اسلام آباد ۔ 11 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی ایک خاموش قاتل ہے جو گزشتہ چند سالوں سے شدت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے، گذشتہ دہائی کے دوران ماحولیاتی تنزلی کی وجہ سے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا نقصان 6 فیصد سے بڑھ کر 9 فیصد ہو گیا ہے جس میں فضائی آلودگی کا حصہ 50 فیصد ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتما م ”فضائی آلودگی کے صحت عامہ، زراعت اور معیشت پر منفی اثرات“ کے حوالہ سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خصوصاً لاہور میں فضائی آلودگی اور سموگ کی بڑی وجہ ٹرانسپورٹ کا سیکٹر ہے، فصلوں کا جلنا اور اینٹوں کے بھٹوں اور سٹیل کی بھٹیوں سے دھواں کا اخراج دوسری بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بھارت کے ساتھ سرحد پار سے امیشنز بھی ایک مسئلہ ہے جسے ریجنل سطح پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ فضائی آلودگی اور سموگ کے مسئلہ سے نمٹنے کےلئے مستند اور قابل اعتماد اعداد و شمار کی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے ملک امین اسلم نے ملک بھر میں فضائی معیارکو جانچنے کےلئے مزید ڈیٹا مانیٹرنگ سٹیشنوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب گرین ڈویلپمنٹ پروگرام (پی جی ڈی پی) کے تحت اور ورلڈ بینک کی مدد سے ہم پنجاب میں تقریباً 30 ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سٹیشن قائم کرنے جا رہے ہیں جن میں سے 10 صرف لاہور میں قائم ہوں گے۔ اس پراجیکٹ کے تحت صوبائی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) کی صلاحیت کو بھی بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مانیٹرنگ سٹیشن بروقت اور درست فیصلہ سازی میں قابل اعتماد اعداد و شمار فراہم کریں گے۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ پی جی ڈی پی کے تحت ہم صنعتوں کو آلودگی پھیلانے والی ٹیکنالوجی کو ختم کرنے اور صاف ٹیکنالوجی کو اپنانے کےلئے 50 ملین ڈالر کا فنڈ بھی قائم کر رہے ہیں جو سبسڈی کی مد میں صنعتوں کو دیا جائے گا جس کے نتیجہ میں امیشنز کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی منصوبے کے تحت گاڑیوں کے معائنہ اور سرٹیفیکیشن سسٹم کو پہلے ہی تشکیل دے دیا گیا ہے اور ہم امید کر رہے ہیں کہ ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں امیشنز کو کم کرنے میں قومی سطح پر توسیع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان الیکٹرک وہیکل پالیسی کابینہ نے پہلے ہی منظور کر لی ہے اور یہ ملک کو ای موبلیٹی کی طرف منتقلی کا ایک نادر موقع ہے کیونکہ اب ہم پالیسی کے نفاذ کے مرحلے میں ہیں۔ اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مزید خبریں