وزیراعلی کے آبائی ضلع میں پولیو کیس، خیبر پختونخوا حکومت کی انسدادِ پولیو حکمت عملی پر سوالات

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے آبائی ضلع خیبر میں پولیو کے ایک نئے کیس کی تصدیق نے صوبائی حکومت کی جانب سے اس موذی مرض کے خاتمے کے لیے اختیار کی گئی حکمت عملی کی مؤثریت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں

پشاور۔ 06 اکتوبر (اے پی پی):خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے آبائی ضلع خیبر میں پولیو کے ایک نئے کیس کی تصدیق نے صوبائی حکومت کی جانب سے اس موذی مرض کے خاتمے کے لیے اختیار کی گئی حکمت عملی کی مؤثریت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ صحت کے ماہرین کے مطابق ہر نیا کیس اس بات کی علامت ہے کہ ایک بچہ عمر بھر کی معذوری اور خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔ ایک سرکاری پریس ریلیز کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے انسدادِ پولیو نے ضلع خیبر میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ-1 کے ایک نئے کیس کی تصدیق کی ہے۔ تحصیل جمرود کے یونین کونسل غنڈی کے ایک سات سالہ بچے میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد رواں سال خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز کی تعداد پانچ جبکہ ملک بھر میں مجموعی تعداد چھ ہو گئی ہے۔اس تعداد میں سندھ کے ضلع سجاول کا ایک کیس بھی شامل ہے۔ یہ تازہ کیس متعدد بار کی جانے والی ویکسینیشن مہمات اور حساس اضلاع میں حفاظتی ٹیکوں کی کوریج بہتر بنانے کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کے مسلسل دعووں کے باوجود سامنے آیا ہے جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہر بچے تک رسائی اور وائرس کی باقی ماندہ گردش کے مراکز کے خاتمے کا چیلنج اب بھی برقرار ہے۔ رواں سال اس سے قبل بنوں سے تین جبکہ شمالی وزیرستان سے ایک کیس رپورٹ ہو چکا ہے۔اگرچہ رواں سال کیسز کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے تاہم محکمہ صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ وائرس کی مسلسل موجودگی اس خطرے کے برقرار رہنے کی نشاندہی کرتی ہے اور انسدادِ پولیو کی کوششوں میں کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں۔پاکستان میں 2025 میں وائلڈ پولیو وائرس کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جن میں سے 19 خیبر پختونخوا سے تھے۔2024 میں ملک بھر میں 74 کیسز سامنے آئے تھے۔ سابق وزیر صحت ظاہر علی شاہ نے خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز کے بار بار سامنے آنے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر زور دیا کہ وہ انسدادِ پولیو پروگرام کو فوری سیاسی اور انتظامی توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے بچے ایک قابلِ تدارک بیماری کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ایک بے مقصد لانگ مارچ کے لیے کنٹینر پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ محکمہ صحت کے حکام کا ہنگامی اجلاس طلب کرے اور بالخصوص بنوں، وزیرستان اور خیبر میں ویکسینیشن کے خلا کو ختم کرنے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کرے۔ ماہر اطفال ڈاکٹر ملک ریاض نے کہا کہ پولیو ایک انتہائی متعدی اور ناقابلِ واپسی بیماری ہے جو بچے کو مستقل طور پر معذور کر سکتی ہے جبکہ ویکسینیشن اس سے تحفظ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو خاموشی سے بچے کو نشانہ بنا سکتا ہے اور اس کا مستقبل مستقل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔پولیو سے بچاؤ کے قطرے محفوظ ہیں اور بچوں کو معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے بدستور اہم ترین ذرائع میں شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کے خلاف غلط معلومات، افواہیں، مفروضے اور منفی پروپیگنڈا اب بھی بڑی رکاوٹیں ہیں، خصوصاً دور دراز علاقوں میں جہاں شرحِ خواندگی کم اور مستند صحت سے متعلق معلومات تک رسائی محدود ہے۔ انہوں نے بنوں، وزیرستان اور خیبر کے بعض علاقوں کو ایسے مقامات قرار دیا جہاں مسلسل عوامی رابطے، مؤثر سماجی تحریک اور بلاتعطل ویکسینیشن سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت نے 21 سے 27 ستمبر تک ایک ہفتہ طویل انسدادِ پولیو مہم بھی چلائی جس کے دوران خیبر پختونخوا میں تقریباً 73 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ مہم میں تقریباً 35 ہزار ویکسینیشن ٹیموں نے حصہ لیا جنہیں سکیورٹی اہلکاروں اور متعلقہ محکموں کے افسران کی معاونت حاصل رہی۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران اپر ساؤتھ وزیرستان، لوئر ساؤتھ وزیرستان، شمالی وزیرستان اور بنوں میں مشکل رسائی والے علاقوں میں ویکسینیشن کوریج بہتر بنانے کے لیے خصوصی مہمات بھی چلائی گئیں۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق صوبہ حساس علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے بھی بیک وقت اقدامات کر رہا ہے جن میں 2,400 ڈاکٹروں کی بھرتی اور تعیناتی، ادویات کی خریداری اور دور دراز علاقوں کے 72 ہسپتالوں کا انتظام آؤٹ سورس کرنا شامل ہے۔ ان مراکز میں مریضوں کو مفت علاج اور ویکسینیشن کی سہولیات بدستور فراہم کی جائیں گی۔صحت کے ماہرین نے زور دیا کہ معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کو اضافی انسدادِ پولیو مہمات کے ساتھ مؤثر طور پر مربوط کیا جانا چاہیے، خصوصاً ان آبادیوں میں جہاں نقل مکانی اور آبادی کی مسلسل آمدورفت ہوتی ہے۔ ماحولیاتی نگرانی کے نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں جن کے مطابق مثبت نمونوں کی تعداد 2025 میں 417 سے کم ہو کر جنوری سے جولائی 2026 کے دوران 124 رہ گئی۔ حالیہ حفاظتی ٹیکہ جات کی مہمات میں بھی فروری میں 98 فیصد، اپریل میں 99 فیصد اور مئی میں 98 فیصد کوریج رپورٹ کی گئی۔ اس کے باوجود حکام نے خبردار کیا کہ وائرس کے باقی ماندہ مراکز، خصوصاً بنوں، وزیرستان، خیبر اور ملحقہ حساس سرحدی علاقوں میں مسلسل نگرانی اور پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو بار بار ویکسین پلانے کی ضرورت ہے۔سرحدی اور جنوبی اضلاع میں ویکسینیشن کے خلا کو دور کرنے کےلیے خیبر پختونخوا حکومت کو وفاقی حکومت کے ساتھ رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جو وائرس کی بروقت تشخیص، فوری ردعمل اور ویکسینیشن مہمات کے دوران رہ جانے والے بچوں تک رسائی پر مسلسل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ وفاقی حکومت نے تقریباً چار لاکھ فرنٹ لائن پولیو ورکرز، جن میں اکثریت خواتین کی ہے، کے معاوضے میں بھی تقریباً 28 فیصد اضافہ کیا ہے۔ یہ کارکن مشکل جغرافیائی حالات اور سکیورٹی کے چیلنجز، خصوصاً سابق قبائلی اضلاع میں، گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ ممالک ہیں جہاں وائلڈ پولیو وائرس اب بھی وبائی حیثیت سے موجود ہے، جس کے باعث خیبر پختونخوا میں پولیو کے ہر تصدیق شدہ کیس کو صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین انتباہ تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر پولیو کی ہنگامی صورتحال کو ترجیح دیں، صوبائی محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کا اجلاس طلب کریں اور ضلع کی سطح پر جامع اور مخصوص ویکسینیشن حکمت عملی یقینی بنائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غفلت وائرس کو دوبارہ پھیلنے کا موقع دے سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی ترجیحات اور صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتحال کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں آنا چاہیے کیونکہ صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بچہ ایسی قابلِ تدارک بیماری کے خلاف غیر محفوظ نہ رہے جو عمر بھر کی معذوری کا باعث بن سکتی ہے۔