وزیرِ خزانہ کی ابو ظہبی کمرشل بینک کے وفد سے ملاقات، مالیاتی معاملات، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل مالیات پر تبادلۂ خیال

وزیرِ خزانہ کی ابو ظہبی کمرشل بینک کے وفد سے ملاقات، مالیاتی معاملات، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل مالیات پر تبادلۂ خیال

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے موقع پر ابو ظہبی کمرشل بینک کے وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتِ حال، مالیاتی تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے ہفتہ کو یہاں جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت، مالیاتی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کیا۔ملاقات میں سرمایہ منڈیوں کے ذریعے مالی وسائل کے حصول اور قرضوں کے انتظام سے متعلق امور پر گفتگو ہوئی، جن کا مقصد مہنگے قلیل مدتی قرضوں کی جگہ بہتر مالیاتی ذرائع اختیار کرنا، قرضوں کی ادائیگی کی مدت بڑھانا اور ادائیگیوں کے بوجھ کو مختلف ادوار میں متوازن بنانا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے بینک کی جانب سے متعدد مالیاتی معاملات میں دلچسپی کا خیرمقدم کیا، جن میں پاکستان کے لیے کریڈٹ حدود کی بحالی، انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن (ITFC) کی مالی معاونت میں شرکت، ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (MIGA) کی ضمانت سے مالی معاونت اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کی معاونت سے متنوع ادائیگی حقوق (DPR) پر مبنی مالیاتی لین دین شامل ہیں۔

وزیرِ خزانہ نے ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، نجکاری، ہوائی اڈوں کے انتظام کو آؤٹ سورس کرنے، بجلی کی ترسیل اور ایم ایل ون (ML-1) ریلوے منصوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کو بھی اجاگر کیا۔ دونوں جانب سے ڈیٹا سینٹرز کے لیے مالی معاونت اور ڈیجیٹل مالیات کے امکانات کا جائزہ لیا گیا،

جبکہ بجلی کی مسابقتی قیمتوں اور مؤثر ضابطہ جاتی نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ملاقات میں علاقائی تنازعات کے معاشی اثرات، توانائی کے تحفظ اور ہدفی ریلیف کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان معاملات پر آئندہ رابطہ کاری وزارتِ خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے ذریعے کی جائے گی۔