وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے گیس کے شعبے میں اصلاحات پر مرحلہ وار اور مشاورت کے ذریعے عملدرآمد کرنے کے حکومتی عزم کااعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ گیس کے شعبہ میں مالی پائیداری کو مضبوط بنانے، آپریشنل کارکردگی میں بہتری ، سرمایہ کاری کے فروغ اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے گیس کی زیادہ مسابقتی منڈی تشکیل دینے کیلئے تمام کوششوں کویقینی بنایاجارہاہے
وزیرِ خزانہ کی زیرِ صدارت گیس کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق اجلاس، تنظیمِ نو اور ڈی ریگولیشن کے مجوزہ لائحہ عمل کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے گیس کے شعبے میں اصلاحات پر مرحلہ وار اور مشاورت کے ذریعے عملدرآمد کرنے کے حکومتی عزم کااعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ گیس کے شعبہ میں مالی پائیداری کو مضبوط بنانے، آپریشنل کارکردگی میں بہتری ، سرمایہ کاری کے فروغ اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے گیس کی زیادہ مسابقتی منڈی تشکیل دینے کیلئے تمام کوششوں کویقینی بنایاجارہاہے۔انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں پاکستان کے گیس کے شعبے میں تنظیمِ نو اور ڈی ریگولیشن کے مجوزہ لائحہ عمل کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اعلی سطح کے اجلاس میں کہی ۔اجلاس میں شعبہ کی مالی استحکام، آپریشنل کارکردگی، صارفین کے مفادات کے تحفظ اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت پر توجہ مرکوز کی گئی۔اجلاس کوبتایاگیاکہ مجوزہ اصلاحات کا مقصد گیس کی ایک ایسی مالی طور پر پائیدار، موثر اور مسابقتی منڈی قائم کرنا ہے جس سے کاروباری سرگرمیوں کو سہارا ملے، نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوں اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔
اجلاس میں موثر ضابطہ کاری، آپریشنل کارکردگی میں بہتری اور گیس کی قیمتوں کے تعین اور فراہمی کے لئے زیادہ پائیدار طریق کار کے تحت مرحلہ وار مسابقتی نظام کی جانب پیشرفت پر غور کیا گیا۔اجلاس میں گیس کے شعبے کو درپیش اہم مسائل کا جائزہ لیا گیا جن میں گردشی قرضہ، مختلف صارفین کے لئے قیمتوں میں باہمی اعانت (کراس سبسڈی)، گیس کے غیر حساب شدہ نقصانات یو ایف جی اور رسد و طلب میں عدم توازن شامل ہیں۔ شرکاء نے سابقہ مالی واجبات کے تصفیے، گیس یوٹیلیٹی کمپنیوں کی مالی حیثیت بہتر بنانے اور اس امر کو یقینی بنانے پر تبادلہ خیال کیا کہ ماضی کے مالی مسائل مجوزہ منڈی کے ڈھانچے کو متاثر نہ کریں اور صارفین پر بھی غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ گردشی قرضے کے سابقہ واجبات کا پائیدار حل اور کراس سبسڈی کے خاتمے یا اس میں اصلاح کے لئے واضح حکمتِ عملی، تنظیمِ نو کے بعد قائم ہونے والے اداروں کی مالی پائیداری اور مسابقتی منڈی کی جانب منتقلی کے لئے نہایت اہم ہے۔
اجلاس میں مجوزہ اصلاحاتی فریم ورک کے متوقع نتائج پر بھی غور کیا گیا جن میں توانائی کا تحفظ اور فراہمی کا استحکام، نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ، مالیاتی اور حکومتی ضمانتوں سے متعلق خطرات میں کمی، کاروباری اداروں کے درمیان گیس کی براہِ راست خرید و فروخت کو فروغ دینا، قیمتوں میں زیادہ استحکام اور پائیداری، برآمد کنندگان کو مسابقتی نرخوں پر گیس کی بہتر دستیابی اور کارکردگی کے موثر معیارات اور کارکردگی سے مشروط مراعات کے ذریعے نظام میں گیس کے نقصانات میں کمی شامل ہیں۔وفاقی وزیرِ خزانہ نے اس امر پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقوں کو اصلاحات کے ایک ایسے عملی اور قابلِ نفاذ نظام پر متفق کیا جائے جس پر موثر انداز میں عملدرآمد ممکن ہو۔ مجوزہ فریم ورک کی تیاری میں ترکیہ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں گیس کے شعبے کی اصلاحات کے بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کیا گیا ہے تاہم پاکستان کے ادارہ جاتی ڈھانچے، منڈی کے حالات اور صارفین کے مفادات کو بھی مدِنظر رکھا گیا ہے۔ شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اصلاحات پر مرحلہ وار اور مناسب ترتیب سے عمل کیا جائے تاکہ گیس کی فراہمی کا تسلسل برقرار رہے،
ضابطہ جاتی نظام کے تحت آنے والے صارفین کے مفادات کا تحفظ ہو اور نجی شعبے کی شمولیت کے لئے ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ماحول فراہم کیا جا سکے۔اجلا س کوبتایاگیا کہ مجوزہ اصلاحاتی فریم ورک وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا جس کے بعد مزید تکنیکی کام اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے اصلاحات کے طریق کار کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور اس نظام کی جانب منظم انداز میں منتقلی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔اجلاس میں حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ گیس کے شعبے میں اصلاحات پر مرحلہ وار اور مشاورت کے ذریعے عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ مالی پائیداری کو مضبوط بنایا جا سکے، آپریشنل کارکردگی بہتر ہو، سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے گیس کی زیادہ مسابقتی منڈی تشکیل دی جا سکے۔اجلاس میں وفاقی وزیرِ پٹرولیم، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے توانائی، وزارتِ پٹرولیم اور وزارتِ خزانہ کے سینئر حکام، گیس یوٹیلیٹی کمپنیوں کے نمائندوں اور عالمی بینک کی ٹیم نے شرکت کی۔








