وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 8 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کے اقدامات کیخلاف سلامتی کونسل جانے کا فیصلہ کیا ہے،بھارت دنیا کی توجہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے ’پلوامہ ٹو‘طرز کا نیا ڈرامہ رچاء سکتا ہے، بھارت نے شملہ معاہدے کی روح پر حملہ کیا ہے جس میں مسئلہ کشمیر کو متنازع معاملہ تسلیم کیا گیا تھا ، اب تمام قانونی …

اسلام آباد ۔ 8 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کے اقدامات کیخلاف سلامتی کونسل جانے کا فیصلہ کیا ہے،بھارت دنیا کی توجہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے ’پلوامہ ٹو‘طرز کا نیا ڈرامہ رچاء سکتا ہے، بھارت نے شملہ معاہدے کی روح پر حملہ کیا ہے جس میں مسئلہ کشمیر کو متنازع معاملہ تسلیم کیا گیا تھا ، اب تمام قانونی پہلوو¿ں کا جائزہ لیں گے، فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس بھی نہیں چلے گی،صورتحال پر چین کے ساتھ مشاورت ضروری ہے اس سلسلے میں جلد بیجنگ جاوں گا۔جواہر لال نہرو نے بھی کہا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کریگی۔قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے افغان کی تجارت متاثر نہیں ہوگی۔بھارت پورے مقبوضہ کشمیر کو جیل میں تبدیل کر دیا ہے،بھارت کب تک چالیس لاکھ کشمیریوں کو قید رکھے گا۔ جمعرات کو وزارت خارجہ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ جمعرات کی صبح میری یورپی یونین کی اعلی نمائندہ برائے امور خارجہ سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے واضح کیا کہ ہم بھارت کے اس موقف کو یکسر مسترد کرتے ہیں کیونکہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر متنازع علاقہ ہے اور اس کی آئینی حیثیت ختم کرنا ان کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔ایک کروڑ پنتالیس لاکھ کشمیریوں کو کرفیو کے ذریعے ایک طرح کی حراست میں لے کر کون سا فلاح و بہبود کا قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ اس وقت تقریباً نو لاکھ بھارتی فوج مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعینات ہے یہ کون سی فلاح و بہبود ہے۔ بھارت نے تقریباً ہر کشمیری گھر کے سامنے ایک فوجی تعینات کر رکھا ہے جس سے مقبوضہ کشمیر کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جہاں تک بھارت کا موقف ہے کہ یہ اندرونی معاملہ ہے تو وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کا ا س سلسلے میںموقف موجود ہے۔ بھارت کے سابق وزیراعظم جواہر لعل نہرونے 25 نومبر کو انڈین مقننہ سے خطاب کرتے ہوئے بھی انہوں نے کشمیر کے حوالے سے واضح کیا کہ ا س کا استصواب رائے یا ریفرنڈم سے فیصلہ کیا جائے۔ پھر انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر کا تعلق ہندوستان یا پاکستان سے نہیں ہے بلکہ کشمیری عوام سے ہے اور آخری فیصلہ انہی کی رائے سے ہو گا۔