وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ایوان بالا میں پالیسی بیان

اسلام آباد ۔ 6 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کا قتل سنجیدہ معاملہ ہے، پورے پاکستان کو اس واقعہ پر تشویش ہے، اس واقعہ سے یہ خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہوا ہے، عراق اور شام میں عدم استحکام کے امکانات بڑھے ہیں، افغان امن عمل متاثر ہو سکتا ہے، حالیہ واقعہ پر پاکستان کے موقف میں کوئی …

اسلام آباد ۔ 6 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کا قتل سنجیدہ معاملہ ہے، پورے پاکستان کو اس واقعہ پر تشویش ہے، اس واقعہ سے یہ خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہوا ہے، عراق اور شام میں عدم استحکام کے امکانات بڑھے ہیں، افغان امن عمل متاثر ہو سکتا ہے، حالیہ واقعہ پر پاکستان کے موقف میں کوئی ابہام نہیں، پاکستان کسی یکطرفہ اقدام کی حمایت نہیں کرتا، طاقت کا استعمال کسی مسئلہ کا حل نہیں، اس معاملے کو سفارتی طریقہ اور عالمی قوانین کے مطابق حل کیا جائے، یہ خطہ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، جنگ کے پاکستان سمیت پورے خطے پر بھیانک اثرات مرتب ہوں گے، پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، پاکستان کسی علاقائی تنازعہ کا حصہ دار نہیں بنے گا۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ عرصہ دراز سے کشیدگی اور عدم استحکام کا شکار رہا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خطہ میں بہت سے مسائل حل طلب ہیں، ان کے حل کرنے پر توجہ نہیں دی گئی جس سے مسائل بڑھے ہیں، یہ خطہ امن واستحکام سے پیدا ہونے والی خوشحالی سے محروم رہا ہے۔ اس تناظر میں آج کے حالات سے نئے تناﺅ اور کشیدگی نے جنم لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 دسمبر کو عراق کے بیس پر راکٹ حملے میں ایک امریکی کنٹریکٹر ہلاک ہوا اور امریکی عملہ کے دو اہلکار زخمی ہوئے، 29 دسمبر کو امریکی ردعمل میں امریکیوں پر حملہ کرنے والی ملیشیاءکے 25 افراد جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہوئے جس کے بعد بغداد میں امریکی سفارتخانہ کے سامنے احتجاج کیا گیا اور جلاﺅ گھیراﺅ کیا گیا، یکم جنوری 2020ءکو امریکہ نے اس احتجاج کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا اور ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو اس واقعہ کا منصوبہ ساز اور ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ 3 جنوری کو جنرل قاسم سلیمانی پر ڈرون حملہ کیا گیا جس میں ان سمیت عراق کی مقامی ملیشیاءکے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المہندس اور دیگر 9 افراد جاں بحق ہوئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ تشویشناک صورتحال ہے، ماہرین کہہ رہے ہیں کہ 2011ءمیں اسامہ پر حملے اور 2019ءپر داعش کے سربراہ اور ابو بکر البغدادی پر حملے سے بھی زیادہ اس واقعہ کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے، امریکی ڈرون حملے کے بعد عراق اور ایران میں لوگ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں، ایران کی حکومت نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا، عراق میں عوامی ردعمل سامنے آیا، ہفتہ کو قاسم سلیمانی کے نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کر کے ردعمل کا اظہار کیا۔ اتوار کو عراقی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس ہوا، اس صورتحال کے تناظر میں عراقی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ عراق میں موجود غیر ملکی فوجیوں کو عراقی سرزمین چھوڑ دینی چاہیے۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ عراق کے وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ جا کر امریکی حملے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا چاہیے کیونکہ یہ حملہ اقوام متحدہ کے منشور اور قراردادوں کے خلاف ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وقت بتائے گا کہ یہ صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے۔ 3 جنوری 2020ءکو پاکستان نے اپنا نکتہ نظر پیش کیا۔ اتوار کو خطہ کے اہم وزرائے خارجہ سے رابطے کئے، ایران کے وزیر خارجہ سے تفصیلی گفتگو کی، ان کا نکتہ نظر سنا اور پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا۔ متحدہ عرب امارات، ترکی اور سعودی عرب کے وزراءخارجہ سے بھی بات چیت کی، اس کے حوالے سے خطے کے دیگر ممالک سے بھی رابطے کریں گے، چین کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال نازک اور تشویشناک ہے، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای برملا انتقام کا اظہار کر چکے ہیں، پوری ایرانی قوم اس معاملے پر غم و غصے کا شکار ہے جبکہ امریکہ بھی مسلسل ایران کے ردعمل کی صورت میں سخت جوابی کارروائی کی دھمکیاں دے رہا ہے جس کے باعث خطے کی صورتحال میں مزید گشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، امریکی انتظامیہ نے 2018ءمیں ایران امریکہ ایٹمی معاہدہ 2015ءسے علیحدگی اختیار کی اور ایران پر پابندیاں لگائیں، موجودہ صورتحال میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل فریقین کو صبر و تحمل کی تلقین کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ تنازعہ حساس معاملہ ہے، پوری قوم کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اس واقعہ کے اثرات نہ صرف پورے خطے بلکہ پاکستان پر بھی پڑیں گے، جنرل قاسم سلیمانی کا قتل سنجیدہ معاملہ ہے، پورے پاکستان کو اس واقعہ پر تشویش ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس واقعہ سے یہ خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہوا ہے، عراق اور شام میں عدم استحکام کے امکانات بڑھے ہیں، افغان امن عمل متاثر ہو سکتا ہے، یمن کے حوثی باغی اس کی آڑ میں سعودی عرب میں حملے کر سکتے ہیں، آبنائے ہرمز کو بلاک کیا جا سکتا ہے جس سے تیل کی رسد متاثر ہو گی، اس سے پاکستان اور ہماری معیشت بھی متاثر ہو گی۔ ایران ایٹمی معاہدہ 2015ءسے لاتعلق ہو سکتا ہے اور یورینیم کی افزودگی کی ازخود پابندی سے مبرا ہو جائے، اس کے بھی خطے اور اس سے باہر اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں، بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا، 2019ءگزشتہ برسوں کے مقابلے میں پر امن رہا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم میں پہلے ہی یکجہتی کا فقدان ہے ، اس واقعہ سے تقسیم کے واقعات بڑھے ہیں، ہم او آئی سی کو یکجا کرنے کے لئے کوشاں ہیں تاکہ مسئلہ کشمیر پر بھارت کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم کے فورم سے موثر آواز اٹھائی جا سکے کیونکہ ہندوستان نے ہر معاملے پر ہمیشہ پاکستان کی مخالفت کی ہے، اس وقت میں بھارت میں شہریت ترمیمی بل پر شدید احتجاج ہو رہا ہے، 11 ریاستیں اس پر عملدرآمد کے لئے تیار نہیں، بھارتی حکومت احتجاج دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مشرقی سرحد پر ہماری تشویش میں اضافہ ہوا ہے، بھارت دہشت گردی کی آڑ میں فالس فلیگ آپریشنل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعہ پر پاکستان کے موقف میں کوئی ابہام نہیں، پاکستان سمجھتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اگر کوئی ایسا ردعمل آتا ہے جس سے خطے کا امن و استحکام متاثر ہوتا ہے، یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں کیونکہ ایسے واقعات سے ہمارے اپنے قومی اقتصادی ایجنڈے پر توجہ متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی یکطرفہ اقدام کی حمایت نہیں کرتا، طاقت کا استعمال کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور میں خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے حوالے سے طے شدہ اصولوں کی پاسداری کو اولیت دیتا ہے، موجودہ صورتحال میں تمام فریقوں کو صبر و تحمل کا اظہار کرنا چاہیے، ایران کے دکھ کا اندازہ ہے لیکن اس پر واضح کر دیا ہے کہ اسے ایسا کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔ اس معاملے کو سفارتی طریقہ اور عالمی قوانین کے مطابق حل کیا جائے، یہ خطہ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ جنگ کے پاکستان سمیت پورے خطے پر بھیانک اثرات مرتب ہوں گے، پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، پاکستان کسی علاقائی تنازعہ کا حصہ دار نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ فریقین کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے کردار ادا کریں گے، موجودہ صورتحال میں عالمی برادری، اقوام متحدہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، دفتر خارجہ میں مانیٹرنگ کے لئے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام مسلمان ممالک کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، موجودہ صورتحال میں ذمہ داری کا ثبوت دیں گے، پاکستانی قوم اور افواج غافل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنے پر ایوان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کا شکر گزار ہوں اور امید ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھی پوری قوم ملکی مفاد میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گی۔