وفاقی آئینی عدالت نے بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی پشاور کی جانب سے خاتون ٹیچر سیدہ لیلیٰ کے خلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے ان کے حق میں پہلے سے دیا گیا فیصلہ برقرار رکھا ۔
وفاقی آئینی عدالت ،بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کی خاتون ٹیچر کے حق میں فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی پشاور کی جانب سے خاتون ٹیچر سیدہ لیلیٰ کے خلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے ان کے حق میں پہلے سے دیا گیا فیصلہ برقرار رکھا ۔
دورانِ سماعت جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ خاتون ٹیچر نے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد تین سال یونیورسٹی میں خدمات انجام دیں اس کے باوجود یونیورسٹی انہیں تنگ کر رہی ہے۔سماعت کے دوران یونیورسٹی کے وکیل رحمان اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے خاتون ٹیچر کو پی ایچ ڈی کے لیے 56 لاکھ روپے کی اسکالرشپ دی تھی اور انہیں تین سال تک یونیورسٹی میں خدمات انجام دینا تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ خاتون ٹیچر اس عرصے کے دوران 196 دن رخصت پر رہیں۔جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ جب یونیورسٹی نے خاتون ٹیچر کی رخصت کی درخواستیں منظور کی تھیں تو اب ان منظور شدہ تعطیلات کو کیسے چیلنج کیا جا سکتا ہے؟ عدالت نے استفسار کیا کہ خاتون ٹیچر نے استعفیٰ کیوں دیا اور رخصت منظور کرنے والے ذمہ داران کے خلاف یونیورسٹی نے کیا کارروائی کی۔
جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ یونیورسٹی نے اسسٹنٹ پروفیسر کی آسامی پر خاتون ٹیچر کو منتخب نہیں کیا بلکہ باہر سے امیدوار بھرتی کر لیا، سرکاری رقم خرچ کرکے خاتون کو پی ایچ ڈی کروائی گئی لیکن اس کے بعد اسسٹنٹ پروفیسر کی آسامی پر کسی دوسرے شخص کو لے آئے۔عدالت نے یونیورسٹی کے مؤقف کا جائزہ لینے کے بعد خاتون ٹیچر سیدہ لیلیٰ کے حق میں پہلے سے دیا گیا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے یونیورسٹی کی اپیل خارج کردی۔








