اسلام آباد ۔21نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے ملک بھر میں ریلوے کی اراضی پر ہونے والی تجاوزات اور قبضوں کے معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریلوے حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ریلوے نے اپنی ملکیتی زمین کی واگزاری اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے۔جسٹس حسن رضوی اور جسٹس کے کے آغا پر …
وفاقی آئینی عدالت کا ریلوے اراضی پر تجاوزات سے متعلق سخت نوٹس، ریلوے سے جامع رپورٹ طلب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔21نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے ملک بھر میں ریلوے کی اراضی پر ہونے والی تجاوزات اور قبضوں کے معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریلوے حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ریلوے نے اپنی ملکیتی زمین کی واگزاری اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے۔جسٹس حسن رضوی اور جسٹس کے کے آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جمعہ کو کیس کی سماعت کی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ریلوے ملکیتی زمین پر قبضہ و تجاوزات کو روکنے والا کوئی ہے یا نہیں؟ریلوے کی زمین قوم کی امانت ہے۔قیامِ پاکستان کے وقت کتنی ٹرینیں چلتی تھیں، آج ٹرینوں اور پٹریوں کی تعداد آدھی رہ گئی ہے۔ریلوے کے بہترین کلب اور ہسپتال ختم ہوگئے، زمینوں پر کچی آبادیاں، انڈسٹری اور گوٹھ بن چکے ہیں۔عدالت نے ریلوے کے وکیل سے استفسار کیا کہ ریلوے کی زمین کو استعمال میں لانے کا کوئی منصوبہ موجود ہے یا نہیں اور اگر ساری زمین واپس مل بھی جائے تو ریلوے اس کا کیا کرے گا۔
جسٹس رضوی نے مزید کہا کہ تجاوزات کے خاتمے سے ریلوے کو کس نے روکا ہے؟افسران اے سی والے کمروں میں بیٹھے رہتے ہیں تو زمینوں پر قبضہ تو ہوگا۔تجاوزات اور قبضے ہو رہے تھے اور ریلوے آنکھیں بند کرکے بیٹھی تھی۔ریلوے کے وکیل نے بتایا کہ راولپنڈی میں ریلوے کی 1359 کنال اراضی پنجاب حکومت نے کچی آبادی کے لیے الاٹ کر دی تھی، جس میں ریلوے سٹیشن بھی شامل تھا۔ پنجاب حکومت نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے 1288 کنال اراضی دوبارہ ریلوے کے نام منتقل کر دی ہے۔








