اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا قدم اٹھایا ہے، صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو امن اور ریلیف فراہم کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال کے حوالے سے سینیٹر قرۃالعین …
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کرنے کا قدم اٹھایا ہے، شازیہ مری

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا قدم اٹھایا ہے، صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو امن اور ریلیف فراہم کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال کے حوالے سے سینیٹر قرۃالعین مری، رکن قومی اسمبلی فتح اللہ خان اور رہنما پاکستان پیپلزپارٹی اخونزادہ چٹان کے ہمراہ پارلیمنٹ ہائوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،قبائلی علاقوں میں بچے، خواتین نشانہ بنےاوردہشت گردی سے ان کے گھر اجڑ گئے،دہشت گردی کی آگ دوسرے علاقوں تک بھی پھیل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کوئی بہانہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے،پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متعدد کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔
شازیہ مری نے کہا کہ افسوس خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 برس سے حکومت نے دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کیا،دہشت گردی سے متاثرہ خیبر پختونخوا کے عوام کی مدد کے لیے خصوصی فنڈ مختص کیا گیا تھا،قومی مالیاتی کمیشن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ایک فیصد اضافی حصہ مختص کرنے کا فیصلہ ہوا تھا،تیرہ برس میں تحریک انصاف کی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کیے؟ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے لیے وفاقی حکومت سے تعاون کرے اور ہدایات پر عمل کرے، جب کوئی حکومت دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام ہو اور سہولت کار بن جائے تو آئینی اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔
شازیہ مری نے کہا کہ ملک کو بچانے اور دہشت گردی کی آگ مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات ضروری ہیں، وفاقی حکومت نے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے قدم اٹھایا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملک کی خاطر مشکل فیصلے کیے ہیں، ملک کی بات آتی ہے تو صدرمملکت آصف علی زرداری اپنا ووٹ نہیں بلکہ پاکستان کو دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ پیپلز پارٹی کی اولین ترجیح پاکستان ہے،خیبر پختونخوا کے عوام سمجھتے ہیں کہ حالات پرامن ہیں تو اسمبلی میں آ کر حقائق بیان کریں، خیبر پختونخوا کے عوام کی حفاظت اور فلاح منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔
شازیہ مری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 میں بھی صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں کا ذکر ہے،آئین کے آرٹیکلز کو اپنی مرضی سے پڑھنے کے بجائے مکمل پڑھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ سیاسی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں،دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا بنیادی مقصد عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ قبائلی عوام کو بڑے آپریشن کے نام پر گمراہ کرنے کے لیے جھوٹا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں لاکھوں قیدی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ان کے مسائل پر بھی بات ہونی چاہیے،ایک قیدی کے لیے ٹوتھ پیسٹ، چائے اور پروٹین کی باتیں کرنا افسوسناک ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ ہمدردی ہے،دہشت گردی کے خلاف کارروائی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری صوبائی حکومت کو خود قبول کرنی چاہیے،
وفاقی حکومت کا اقدام آخری راستے کے طور پر کیا گیا۔ شازیہ مری نے کہا کہ مقررہ مدت کا انتظار کرنے کے بجائے اہداف جلد از جلد حاصل کیے جائیں، پی ٹی آئی کو احساس ہونا چاہیے کہ حکومت میں رہنے والوں کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اخونزادہ چٹان نے کہا کہ 2021ء سے پہلے کہا جاتا تھا کہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی سے پاکستان میں امن آ جائے گاجبکہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ٹی ٹی پی اور نام نہاد گڈ طالبان اکٹھے ہوگئےاورپاکستان پر دوبارہ دہشت گردی کی جنگ مسلط کی گئی۔







