اسلام آباد ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آزادانہ خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے‘ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں چار سالوں تک وزیر خارجہ کا تقرر نہیں کیا گیا‘ سابق حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی ہی نہیں تھی‘ جب میاں نواز شریف مودی کی حلف برداری میں گئے تو پہلی مرتبہ …
وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آزادانہ خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے‘ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں چار سالوں تک وزیر خارجہ کا تقرر نہیں کیا گیا‘ سابق حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی ہی نہیں تھی‘ جب میاں نواز شریف مودی کی حلف برداری میں گئے تو پہلی مرتبہ وزیراعظم پاکستان حریت کانفرنس کے وفد سے نہیں ملے‘ ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان کے مسائل کو حل نہیں کیا وہاں پر استحصال ہوتا رہا‘ ہمارا وژن اور ارادہ ہے کہ بلوچستان اور گوادر کی ترقی کے ثمرات عام بلوچ تک پہنچائیں گے‘ لاپتہ افراد کے معاملے کو اتفاق رائے سے حل کریں گے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن خواجہ محمد آصف کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ خواجہ آصف نے ایوان میں اسد عمر کے خاندان کو نشانہ بنایا جو افسوسناک ہے‘ خواجہ آصف کو یاد نہیں کہ جنرل عمر کے ایک بیٹے کو سابق حکومت نے گورنر بنایا تھا‘ خواجہ آصف کا یہ طرز عمل غلط ہے، ان کے الفاظ کو ریکارڈ سے حذف کیا جائے‘ ہمیں اس طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔








