وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ کی ورلڈ اکنامک فورم کے مکالمے میں شرکت ، پاکستان میں جامع ریگولیٹری اصلاحات، سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری کے اقدامات کو اجاگر کیا
وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ کی ورلڈ اکنامک فورم کے مکالمے میں شرکت ، پاکستان میں جامع ریگولیٹری اصلاحات، سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری کے اقدامات کو اجاگر کیا

مزید خبریں
نیویارک۔24ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے نیویارک میں ورلڈ اکنامک فورم کے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ امپیکٹ میٹنگز 2026 کے اعلیٰ سطحی مکالمے میں شرکت کی، جہاں انہوں نے پاکستان میں جاری جامع ریگولیٹری اصلاحات، سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری کے اقدامات اور پائیدار، ٹیکنالوجی پر مبنی اور برآمدی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع کو اجاگر کیا۔وفاقی وزیر نے گلوبل ریگولیٹری انوویشن پلیٹ فارم کے افتتاحی پینل ’’ریگولیٹنگ تھرو اَن سرٹینٹی: ٹرننگ انوویشن اِنٹو امپلی منٹیشن‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایسا ریگولیٹری ماحول تشکیل دے رہا ہے جو عوامی مفاد کا تحفظ، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال اور مستحکم رکھے اور جدت کو تصورات سے عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔
قیصر احمد شیخ نے کہا کہ حکومت کا مقصد کم سے کم، سادہ، واضح اور قابلِ پیش گوئی ریگولیشنز متعارف کرانا ہے، جبکہ ضروری حفاظتی تقاضوں کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی مقصد بہتر ریگولیشن ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے منصوبہ بندی کو آسان بنائے، بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکے اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھے۔وفاقی وزیر نے ریگولیٹری جدیدکاری میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مرکزی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 30 شعبوں میں 90 کے قریب وفاقی و صوبائی محکموں کے تعاون سے 500 سے زائد ریگولیٹری اصلاحات نافذ کی جا چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشی ایٹو (PRMI) کاروباری معاملات سے متعلق قوانین و ضوابط کا جائزہ لینے، انہیں آسان بنانے اور ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کر رہا ہے۔ آسان کاروبار ایکٹ 2025 نے بھی ریگولیٹری جدیدکاری کے عمل کو مزید ادارہ جاتی بنیاد فراہم کی ہے، جس میں پاکستان ریگولیٹری رجسٹری اور پاکستان بزنس پورٹل جیسے اقدامات شامل ہیں۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد غیر ضروری ریگولیٹری تقاضوں میں کمی، کاروباری تعمیل کے بوجھ کو کم کرنا، سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانا اور کاروباری اداروں و سرمایہ کاروں کے لیے حکومتی خدمات کو مزید آسان، شفاف اور قابلِ پیش گوئی بنانا ہے۔
سرمایہ کاروں کو عملی سہولت فراہم کرنے کی ایک اہم مثال پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے بزنس فیسلی ٹیشن سینٹر (BFC) اسلام آباد کا ذکر کیا، جہاں 22 وفاقی اداروں کو ایک ہی چھت تلے جمع کیا گیا ہے تاکہ کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو رجسٹریشن، لائسنسز، سرٹیفکیٹس، پرمٹس، منظوریوں اور دیگر ریگولیٹری خدمات تک مربوط رسائی فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بزنس فیسلی ٹیشن سینٹر ریگولیٹری اصلاحات کو عملی سرمایہ کاری سہولت کاری میں تبدیل کرنے کی ایک مؤثر مثال ہے۔ پہلے آٹھ ماہ کے دوران مرکز نے 5,386 کاروباری اداروں کو خدمات فراہم کیں، 4,555 منظوریوں اور این او سیز پر کارروائی کی، 5.08 ارب روپے کی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کی اور 15,680 روزگار کے مواقع کی معاونت کی جبکہ سرمایہ کاروں کی اطمینان کی شرح 9.8 از 10 رہی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان منتشر اور پیچیدہ طریقہ کار سے مربوط اور سرمایہ کار دوست خدمات کی جانب بڑھ رہا ہے، اور بزنس فیسلی ٹیشن سینٹر اس بات کی عملی مثال ہے کہ ریگولیٹری اصلاحات کو مؤثر عملدرآمد میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے پر بات کرتے ہوئے قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان جدت اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ انسانی ذمہ داری، سکیورٹی، شفافیت اور عوامی اعتماد کو بھی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے ایک متوازن اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے والا طریقہ اختیار کر رہا ہے، جس میں کنٹرولڈ تجربات اور ریگولیٹری سینڈ باکسز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور سٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت مختلف اداروں کو ریگولیٹری سینڈ باکسز کے ذریعے جدید کاروباری ماڈلز کو محدود اور محفوظ ماحول میں جانچنے کا تجربہ حاصل ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل اے آئی پالیسی اور وسیع تر ریگولیٹری جدیدکاری کے اقدامات ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور استعمال کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں گے اور ساتھ ہی سرمایہ کاری اور جدت کے لیے نئی راہیں کھولیں گے۔انہوں نے کہا کہ تیزی سے آگے بڑھنے کا مطلب کم ریگولیشن نہیں بلکہ ایسا ریگولیشن تشکیل دینا ہے جو سیکھنے اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ انہوں نے شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی، سٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور ٹیکنالوجی کے ارتقا کے ساتھ باقاعدہ جائزے کی اہمیت پر زور دیا۔قیصر احمد شیخ نے پاکستان کے سرمایہ کاری فریم ورک کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک مختلف پیداواری شعبوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع فراہم کر رہا ہے۔ انویسٹمنٹ پالیسی 2023 کے تحت زیادہ تر شعبوں میں، متعلقہ شعبہ جاتی تقاضوں کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 100 فیصد تک ملکیت کی اجازت ہے جبکہ قابلِ اطلاق زرمبادلہ کے طریقہ کار کے تحت منافع اور سرمایہ واپس لے جانے کی سہولت بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 44 نوٹیفائیڈ اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اہم پلیٹ فارم ہیں۔وفاقی وزیر نے اسپیشل اکنامک زونز میں دستیاب مراعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہل زون انٹرپرائزز کو سال 2035ء تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ، قابلِ اطلاق استثنائی مدت اور قانونی شرائط کے مطابق حاصل ہے، جبکہ اسپیشل اکنامک زونز میں تنصیب کے لیے درآمد کی جانے والی اہل پلانٹ اور مشینری پر ایک مرتبہ کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز سے استثنیٰ بھی قابلِ اطلاق شرائط کے تحت دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے لیے بہتر سہولت کاری کے ساتھ یہ مراعات پاکستان میں پیداواری سرمایہ کاری، صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے اور برآمدی صلاحیت میں اضافے کے لیے معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
قیصر احمد شیخ نے پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ کاری روابط میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس 2025 کو نمایاں مثال قرار دیا، جس میں 623 چینی کمپنیوں اور تقریباً 300 پاکستانی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران 3,500 سے زائد بی ٹو بی میچ میکنگ اجلاس، 25 جوائنٹ وینچرز اور 142 مفاہمتی یادداشتیں ہوئیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 9.5 ارب امریکی ڈالر تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چین بی ٹو بی رابطوں کا تجربہ اس امر کا ثبوت ہے کہ منظم کاروباری روابط سرمایہ کاری کے مواقع کو عملی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اب پاکستان چین بی ٹو بی روابط کے تجربے کو دیگر ممالک اور عالمی منڈیوں تک وسعت دینے اور اسی نوعیت کی سرمایہ کاری و کاروباری روابط پر مبنی سرگرمیوں کے انعقاد کا خواہاں ہے تاکہ جوائنٹ وینچرز، ٹیکنالوجی شراکت داری، برآمدات اور طویل المدتی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان بالخصوص پائیدار اور برآمدی صنعت، ٹیکنالوجی و ڈیجیٹل سروسز، قابلِ تجدید توانائی و توانائی کی استعداد، زرعی کاروبار و فوڈ پروسیسنگ، معدنیات، انفراسٹرکچر و لاجسٹکس، صنعتی کلسٹرز و اسپیشل اکنامک زونز، انوویشن و وینچر کیپیٹل اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔انہوں نے پاکستان کے سرمایہ کاری ایجنڈے میں پائیداری اور موسمیاتی لچک کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ قابلِ تجدید توانائی، مضبوط انفراسٹرکچر، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، پانی کے مؤثر استعمال اور پائیدار صنعتوں میں سرمایہ کاری معاشی لچک، روزگار اور طویل المدتی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے عالمی کمپنیوں، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، خودمختار سرمایہ کاری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی شراکت داری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیداواری صلاحیت، برآمدات، جدت اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کا خیرمقدم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم کے مکالمے میں پاکستان کی شرکت عالمی ریگولیٹری تجربات سے استفادہ کرنے اور انہیں پاکستان کے اپنے معاشی، ادارہ جاتی اور ترقیاتی حالات کے مطابق ڈھالنے کے عزم کی عکاس ہے۔
بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے، ریگولیٹری رابطہ کاری کو مضبوط بنانے، غیر ضروری ریگولیٹری تقاضوں میں کمی، کاروبار کرنے میں آسانی کو مزید بہتر بنانے اور پاکستان کو پائیدار، برآمدی اور ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری کے لیے ایک مسابقتی مقام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔







