وفاقی وزیر جام کمال خان کا ہنگری میں پاکستان کے پہلے رائس فیسٹیول کاخیرمقدم، پاکستانی چاول کی عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر زور

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ہنگری میں پاکستان کے پہلے رائس فیسٹیول کے کامیاب انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی خریداروں کے ساتھ براہ راست روابط مارکیٹ تک رسائی بڑھانے، نئے خریداروں کو راغب کرنے اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی سطح پر فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ہنگری میں پاکستان کے پہلے رائس فیسٹیول کے کامیاب انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی خریداروں کے ساتھ براہ راست روابط مارکیٹ تک رسائی بڑھانے، نئے خریداروں کو راغب کرنے اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی سطح پر فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ہفتہ کویہاں موصولہ پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر نے اس تقریب کے انعقاد میں ہنگری میں پاکستان کے سفیر عاصم حسین میمن، ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ اتاشی شہریار امجد قیصرانی اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کی کاوشوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ باسمتی چاول پاکستان کی نمایاں برآمدات میں شامل ہے اور عالمی منڈیوں میں اس کی بڑھتی ہوئی طلب ملک کے کسانوں اور برآمد کنندگان کے لیے حوصلہ افزا ہے۔جام کمال خان نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی مشنز تیزی سے ملک کی زرعی اورغذائی مصنوعات کو نئی منڈیوں میں صارفین اور خریداروں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان زرعی و غذائی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور روایتی منڈیوں سے آگے تجارتی روابط استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔فیسٹیول میں غذائی اور زرعی شعبوں سے وابستہ درآمد کنندگان اور کاروباری رہنماؤں، ہنگری کے معروف ماہر باورچیوں، مختلف سرکاری اداروں کے نمائندوں اور سفارتی برادری کے ارکان نے شرکت کی۔اس موقع پر سفیر عاصم حسین میمن نے شرکا کو باسمتی چاول کے تاریخی پس منظر، اہمیت اور برآمدی امکانات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ باسمتی چاول محض ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ ایک معروف برانڈ ہے، جسے جغرافیائی شناخت (جی آئی) کے تحت تحفظ حاصل ہے جو اس کے تاریخی ورثے اور مستند معیار کو اجاگر کرتا ہے۔تقریب کے دوران ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ اتاشی نے ’’دی آرٹ آف بریانی‘‘ کے عنوان سے کھانا پکانے کا عملی مظاہرہ بھی کیاجس کے ذریعے شرکا کو پاکستانی چاول اور اس سے تیار ہونے والے مختلف پکوانوں سے متعارف کرایا گیا۔اس موقع پر پاکستانی مصنوعات، بشمول ہمالیائی گلابی نمک بھی پیش کیا گیا اور شرکا کو اس کے ذائقے سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا گیا۔

پاکستانی سفارت خانے نے ہنگری زبان میں چاول سے تیار ہونے والے مختلف پکوانوں پرمشتمل مختصر کتابچہ بھی تیار کیاجسے شرکا میں تقسیم کیا گیا۔ اس کے علاوہ تمام شرکا کو پاکستانی چاول کے نمونے فراہم کیے گئے تاکہ وہ اپنے گھروں میں بھی اس سے مختلف پکوان تیار کر سکیں۔شرکا کو پاکستان کی بین الاقوامی نمائش برائے غذائی و زرعی مصنوعات ’’فوڈ ایگ 2026‘‘ میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی، جو 23 سے 26 نومبر 2026 تک کراچی کے ایکسپو سینٹر میں منعقد ہوگی۔ یہ فیسٹیول پاکستانی سفارت خانے میں ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ اتاشی کی تعیناتی کے بعد منعقد کیا گیاجو غیر روایتی منڈیوں میں تجارتی اور سرمایہ کاری روابط کو مزید مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کا عکاس ہے۔

مزید خبریں