وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”ٹونائٹ ود معید پیرزادہ“ میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعت کو بڑھانا ہے جس کے لیے موثر اقدامات یے جا رہے ہیں، سابق حکومت کی طرح شاہانہ اخراجات نہیں کریں گے بلکہ سادگی اور کفایت شعاری کو اپناتے ہوئے آگے بڑھیں گے کیونکہ ہم قوم کا پیسہ بچانا چاہتے …

اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعت کو بڑھانا ہے جس کے لیے موثر اقدامات یے جا رہے ہیں، سابق حکومت کی طرح شاہانہ اخراجات نہیں کریں گے بلکہ سادگی اور کفایت شعاری کو اپناتے ہوئے آگے بڑھیں گے کیونکہ ہم قوم کا پیسہ بچانا چاہتے ہیں، سابق حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا، سابق حکومت کی وجہ سے 2300 ارب کا بجٹ خسارہ ہوا، موجودہ حکومت ملکی خسارے کو کم کرنے کے لیے اہم اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”ٹونائٹ ود معید پیرزادہ“ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ حکومت کی طرح شاہانہ اخراجات نہیں کریں گے بلکہ سادگی اور کفایت شعاری کو اپناتے ہوئے آگے بڑھیں گے کیونکہ ہم قوم کا پیسہ بچانا چاہتے ہیں، گزشتہ 5 سالوں کے دوران سابق حکومت کچھ بھی نہیں کر سکی بلکہ سابق حکومت نے تو ملکی معیشت کو تباہ کر دیا ہے، ہم ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کوشاں ہیں، قوی امید ہے کہ اکتوبر کے وسط تک غیر یقینی کی صورت حال کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے نئے قرض کا ابھی کوئی ارادہ نہیں لیکن آئندہ چند روز تک کوئی فیصلہ کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کتنے پیسوں کی ضرورت ہے فورا نہیں بتا سکتے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں انکم ٹیکس دینے والے 7 لاکھ لوگ ہیں، ایف بی آر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جو ٹیکس نہیں دے رہا ایف بی آر انہیں پکڑے گا، روپے کو ڈالر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔

مزید خبریں