وفاقی وزیر خزانہ کی این ڈی ایم اے کے سبکدوش اور نئے چیئرمین سے ملاقات، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور موسمیاتی خطرات سے بچائو کی صلاحیت بارے تبادلہ خیال کیا
وفاقی وزیر خزانہ کی این ڈی ایم اے کے سبکدوش اور نئے چیئرمین سے ملاقات، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور موسمیاتی خطرات سے بچائو کی صلاحیت بارے تبادلہ خیال کیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعے کویہاں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے)کے سبکدوش چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور نئے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل حسن خٹک سے ملاقات کی جس دوران آفات سے نمٹنے کی تیاری، موسمیاتی خطرات سے بچائو کی صلاحیت اور پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق خطرات سے نمٹنے کی قومی استعداد مضبوط بنانے بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خزانہ نے موسمیاتی تبدیلیوں اور آبادی میں اضافے کو پاکستان کے دو وجودی چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے معیشت کے استحکام، غذائی تحفظ، عوامی زندگی اور سرکاری مالی وسائل پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف اورعالمی بینک کے حالیہ سالانہ اجلاسوں کے دوران بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ گفتگو میں موسمیاتی تبدیلی اور پاکستان پر اس کے اثرات بھی زیر بحث آئے جس سے قومی سطح پر تیاری اور خطرات کے موثر انتظام کی اہمیت کی عکاسی ہورہی ہے ۔لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیر خزانہ کو پاکستان کے طویل مدتی موسمیاتی پیش گوئی کے نظام بارے بریفنگ دی جو 12 ماہ تک کے موسمیاتی رجحانات کی پیش گوئی کر سکتا ہے اور اس کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے جاری کوششوں سے آگاہ کیا۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے پیش گوئیوں کی بنیاد پر بروقت فیصلے کرنے اور موثر پیشگی انتباہی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا، اس کے ساتھ ساتھ محکمہ موسمیات پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کی قلیل مدتی موسمیاتی نگرانی کو طویل مدتی پیش گوئیوں کے ساتھ مربوط کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی تاکہ خطرات سے دوچار آبادیوں کو بروقت خبردار کیا جا سکے اور ضروری حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔این ڈی ایم اے کی قیادت نے گلوبل ریزیلینس ہب اور نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجیز کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا جن کا مقصد پاکستان کو آفات کے بعد ردعمل پر مبنی نظام سے فعال اور ٹیکنالوجی پر مبنی خطرات میں کمی کے نظام کی جانب منتقل کرنے میں مدد دینا ہے، ان اقدامات سے علم اور تجربات کے تبادلے، پاکستان کی پیش گوئی کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ روابط بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ملاقات میں موسمیاتی سائنس اور پیش گوئی کے شعبوں میں قومی سطح پر پائیدار مہارت پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا جس کے لیے واضح ادارہ جاتی ذمہ داری، منظم تربیت اور خصوصی فنی عملے کی دستیابی ضروری ہے۔ وزیر خزانہ نے موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے، ان کے اثرات کم کرنے اور آفات کے خطرات کے انتظام کے لیے طویل مدتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور فنی مہارت کے تسلسل کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے ملکی وسائل کے موثر استعمال اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ روابط کے ذریعے آفات سے نمٹنے کی تیاری اور موسمیاتی خطرات سے بچائو کے لیے مالی وسائل متحرک کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔ گفتگو میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینے اور ایسے قابل عمل منصوبے تیار کرنے پر زور دیا گیا جو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بنائیں، تیاری بہتر کریں اور قابل پیمائش نتائج فراہم کریں۔وزیر خزانہ نے این ڈی ایم اے کے چیئرمین کی حیثیت سے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کی خدمات کو سراہا اور پاکستان کے آفات سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط بنانے میں ادارہ جاتی تسلسل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل حسن خٹک کو اتھارٹی کی قیادت سنبھالنے پر نیک خواہشات بھی پیش کیں۔ ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ موثر رابطہ کاری، ٹیکنالوجی اور پائیدار مالی معاونت کے ذریعے موسمیاتی خطرات کی پیشگی نشاندہی، تیاری، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت اور ان کے اثرات میں کمی کے لیے پاکستان کی صلاحیت مزید مضبوط بنائی جائے گی تاکہ انسانی جانوں، روزگار کے ذرائع اور معیشت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔\932
C:riz-tar/P:riz/L:irf/R:irf








