اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت نیشنل وہیٹ اوورسائٹ کمیٹی کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں مجموعی گندم کی صورتحال 2026 کے لئے گندم کی خریداری کے منصوبے، موجودہ ذخائر کی دستیابی، بین الصوبائی ہم آہنگی اور منڈی کے استحکام کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں تمام صوبوں اور متعلقہ وفاقی اداروں کے نمائندگان نے شرکت …
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی زیر صدارت نیشنل وہیٹ اوورسائٹ کمیٹی کا چوتھا اجلاس، گندم کی خریداری کے منصوبے، موجودہ ذخائر کی دستیابی، بین الصوبائی ہم آہنگی اور منڈی کے استحکام کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت نیشنل وہیٹ اوورسائٹ کمیٹی کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں مجموعی گندم کی صورتحال 2026 کے لئے گندم کی خریداری کے منصوبے، موجودہ ذخائر کی دستیابی، بین الصوبائی ہم آہنگی اور منڈی کے استحکام کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں تمام صوبوں اور متعلقہ وفاقی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
کمیٹی نے ملک بھر میں گندم کی رسد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ موجودہ غذائی سال کے لئے قومی ضروریات پوری کرنے کے لئے گندم کے وافر ذخائر دستیاب ہیں۔ واضح طور پر بتایا گیا کہ گندم کی کوئی قلت نہیں اور آئندہ فصل کی کٹائی تک گندم کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنانے کے لئے مناسب انتظامات موجود ہیں۔کمیٹی نے صوبائی سطح پر گندم کی خریداری کی حکمتِ عملیوں پر بھی غور کیا اور کسانوں کو استحصال سے بچانے کی اہمیت پر زور دیا۔ صوبوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ کسانوں کو منصفانہ معاشی منافع دلانے کے لئے بالخصوص ضلعی سطح پر مؤثر نگرانی اور عملدرآمد کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
گندم کی خریداری میں نجی شعبے کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا اور یقین دہانی کرائی گئی کہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے ضابطہ جاتی طریقۂ کار نافذ ہیں۔بین الصوبائی ہم آہنگی اجلاس کا ایک اہم نکتہ رہی۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ صوبوں کے مابین تعاون کے ذریعے خریداری کے انتظامات کو سہل بنایا جائے جن میں کارکردگی اور سہولتِ عمل کے لئے مناسب خریداری علاقوں کی تخصیص بھی شامل ہے۔
ان اقدامات کا مقصد مشترکہ منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کے ذریعے قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔اجلاس میں موجودہ ربیع سیزن 2025-26 کے دوران گندم کی بوائی کی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ صوبوں نے حوصلہ افزا رجحانات کی اطلاع دی جو کسانوں کے اعتماد اور بہتر زرعی طریقۂ کار کی عکاسی کرتے ہیں۔ موجودہ اشاریوں کی بنیاد پر جاری سال کے دوران زرعی نمو مضبوط رہنے کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر نے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، گندم کی منڈیوں کو مستحکم رکھنے، کسانوں کے تحفظ اور مناسب سٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ تمام صوبوں نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ گندم کے وافر ذخائر دستیاب ہیں اور گندم کی رسد میں کسی بھی ممکنہ رکاوٹ سے بچاؤ کے لئے بروقت اور مؤثر اقدامات کئے جا چکے ہیں۔








