وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کی زیرِ صدارت کامسیٹس یونیورسٹی کی سینیٹ کا 9واں اجلاس
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کی زیرِ صدارت کامسیٹس یونیورسٹی کی سینیٹ کا 9واں اجلاس
اسلام آباد۔6مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی کی زیرِ صدارت کامسیٹس یونیورسٹی کی سینیٹ کا 9واں اجلاس منعقد ہوا جس میں جامع انداز میں تعلیمی، انتظامی، مالیاتی اور پالیسی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بدھ کو جلاس کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق سینیٹ نے یونیورسٹی کے انسانی وسائل اور کیریئر ڈویلپمنٹ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا جبکہ فیکلٹی اور انتظامی عملے کی پیشہ وارانہ ترقی کے لئے نئے اقدامات کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر اوپن اینڈ ڈسٹنس لرننگ پروگرامز کے فروغ اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لئے تعلیمی مواقع بڑھانے سے متعلق پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ سینیٹ و دیگر ادارہ جاتی فورمز میں الیکٹرانک ووٹنگ کے نفاذ کی تجویز زیرِ غور آئی جس کا مقصد فیصلہ سازی کے عمل کو شفاف، تیز اور مؤثر بنانا ہے۔ مزید برآں، یومیہ اجرتوں، سکالرشپس اور ملازمین کی فلاح و بہبود سے متعلق مختلف امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اہم انتظامی و تعلیمی تقرریوں اور سلیکشن بورڈ کے فیصلوں کی منظوری دی گئی جبکہ فیکلٹی اور نان فیکلٹی ملازمین کی تقرریوں اور ترقیوں کی بھی توثیق کی گئی۔
اس کے علاوہ نئے تعلیمی اداروں کے الحاق کی منظوری بھی ایجنڈے کا حصہ رہی جس سے یونیورسٹی کے دائرہ کار میں مزید وسعت متوقع ہے۔وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ذیلی کمیٹیوں کی فعالیت کو مؤثر بنانے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسی سازی اور مؤثر گورننس کے ذریعے تعلیمی معیار کو مزید بلند کیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر کامسیٹس یونیورسٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اعلیٰ تعلیمی معیار، شفافیت اور ادارہ جاتی ترقی کو فروغ دینے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ملک میں معیاری تعلیم کے فروغ میں اپنا مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔









