وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت وزارتِ صحت میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں ایچ آئی وی کی مجموعی صورتحال، انسدادِ ایچ آئی وی پروگرام پر عملدرآمد، نگرانی کے نظام اور مختلف صوبوں میں جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈیجیٹل ڈیٹا، صوبائی اقدامات اور گلوبل فنڈ کے تعاون سے جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا …
وفاقی وزیر صحت کی زیرِ صدارت جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس ، انسدادِ ایچ آئی وی پروگرام پر عملدرآمد، نگرانی کے نظام، جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت وزارتِ صحت میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں ایچ آئی وی کی مجموعی صورتحال، انسدادِ ایچ آئی وی پروگرام پر عملدرآمد، نگرانی کے نظام اور مختلف صوبوں میں جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈیجیٹل ڈیٹا، صوبائی اقدامات اور گلوبل فنڈ کے تعاون سے جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم ٹاسک فورس اور دیگر مجاز فورمز کی جانب سے منظور شدہ سفارشات اور اقدامات پر پیشرفت بھی زیرِ غور آئی۔اجلاس میں انجکشن سیفٹی، بلڈ سیفٹی، انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول، عوامی آگاہی، ایچ آئی وی وائرل لوڈ ٹیسٹنگ، نگرانی کے نظام، ڈیجیٹل ڈیٹا مینجمنٹ، بارڈر سکریننگ اور وزیراعظم ٹاسک فورس کی سفارشات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ہدایت کی کہ ملک بھر میں ہر بڑے یا معمولی آپریشن اور جلد کو چیرنے یا چھیدنے والے طبی عمل سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ لازمی طور پر یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات میں ایچ آئی وی کی منتقلی کے خطرات کو مزید کم کیا جائے، سندھ، پنجاب اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں معمولی و بڑے جراحی طریقہ کار سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ پہلے ہی کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے متعلقہ حکام سرجری سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ کے نفاذ کے لئے ضروری نوٹیفکیشن جاری کریں۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں کے لئے غذائی معاونت کو خصوصی اہمیت دی جائے، متاثرہ بچوں کی دیکھ بھال صرف طبی علاج تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ ان کے لئے غذائی، نفسیاتی اور فلاحی معاونت بھی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں تمام صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز کو بھی مدعو کیا جائے جبکہ صوبوں میں انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول کے طریقہ کار کا جامع جائزہ لیا جائے۔
ایڈیشنل سیکرٹری وزارتِ صحت میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی نے ہدایت کی کہ پنجاب حکومت صوبے کے ایچ آئی وی ڈیٹا کو قومی ایچ آئی وی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ساتھ جلد از جلد منسلک کرے تاکہ ملک میں ایچ آئی وی کی صورتحال کی متحد، مربوط اور بروقت نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس میں ایچ آئی وی سے منسلک بدنامی کے خاتمے، کمیونٹی انگیجمنٹ اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان انسدادِ ایچ آئی وی کے لئے مکمل طور پر پرعزم ہیں، ایچ آئی وی ایک قابلِ روک تھام بیماری ہے، اس کی روک تھام کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر مؤثر اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔
وفاقی وزیر صحت نے اجلاس میں دی گئی تمام ہدایات پر پیشرفت سے متعلق جامع رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری وزارتِ صحت میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی، گلوبل فنڈ کے ہیڈ آف گرانٹ مینجمنٹ، گلوبل فنڈ کنٹری ٹیم کی نمائندہ، ڈبلیو ایچ او، ، UNAIDS، یونیسف اور یو این ڈی پی کے کنٹری نمائندگان جبکہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے محکمہ صحت کے سیکرٹریز شریک ہوئے۔








