ٹیکسٹائل صنعت پاکستان کی معاشی شناخت کا اہم ستون ہے، ہارون اختر خان

ٹیکسٹائل صنعت پاکستان کی معاشی شناخت کا اہم ستون ہے، ہارون اختر خان

اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت ملک کی معاشی شناخت کا اہم ستون ہے، ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ دنیا میں اپنی جگہ بنا چکا ہے، اب اس مقام کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو زیادہ پیداوار، بہتر پیداوار اور دنیا کو زیادہ فروخت کرنے کی ضرورت ہے، ملکی معاشی سمت پیداوار، برآمدات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی جانب ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل انڈسٹریل پالیسی کی بنیاد پیداوار، سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات پر رکھی جا رہی ہے، حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جس میں کاروباری افراد کامیاب ہو سکیں۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت ریگولیٹری رکاوٹیں دور کرے گی، ٹیرف کو معقول بنانے اور غیر ضروری ضوابط کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ریگولیٹری گِلَوٹین کے ذریعے کاروباری شعبے کے لیے غیر ضروری قوانین اور ضوابط ختم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل صنعت کو کم لاگت کے ساتھ ساتھ معیار، ٹیکنالوجی، ڈیزائن اور پائیداری کی بنیاد پر عالمی مقابلہ کرنا ہوگا۔ پاکستان کو خام مال کے بجائے تیار اورویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات کی طرف تیزی سے بڑھنا ہوگا۔مشیر صنعت و پیداوار نے کہا کہ ہمیں عالمی برانڈز کے صرف سپلائر نہیں بلکہ اپنے پاکستانی برانڈز بھی تخلیق کرنے ہوں گے۔ پاکستان کے پاس ایک مکمل اور مربوط ٹیکسٹائل ایکو سسٹم موجود ہے، اصل چیلنج اس سے زیادہ قدر پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت میں جدید مشینری، ٹیکنالوجی، ہنرمند افرادی قوت اور تحقیق میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ توانائی کی مسابقتی قیمت، ٹیکسز، ریفنڈز، فنانسنگ اور تجارتی سہولیات صنعت کے اہم مسائل ہیں۔ہارون اختر خان نے کہا کہ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں اعتماد ہو اور سرمایہ کاری وہاں ہوتی ہے جہاں پالیسی میں تسلسل ہو۔ کاروباری افراد کو یہ اعتماد ملنا چاہیے کہ پالیسی کے بنیادی اصول بار بار تبدیل نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت فریم ورک بنا سکتی اور منڈیوں کے دروازے کھول سکتی ہے، تاہم ان مواقع سے فائدہ صنعت نے اٹھانا ہے۔

پاکستان کو حکومت اور صنعت کے مشترکہ تعاون سے صنعتی تبدیلی کی طرف بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عالمی سپلائی چینز میں تبدیلی پاکستان کے لیے چیلنج کے ساتھ نئے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے، دنیا کے خریدار اب صرف قیمت نہیں بلکہ معیار، پائیداری، ٹریس ایبلٹی اور رفتار کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اگلا ٹیکسٹائل انقلاب پیداواریت، ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن پر مبنی ہونا چاہیے۔

پاکستانی کپاس جب بیرون ملک جائے تو اس کے ساتھ پاکستانی ٹیکنالوجی، ڈیزائن، مینوفیکچرنگ اور برانڈ کی قدر بھی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات میں صرف حجم نہیں بلکہ ہر مصنوعات میں پاکستان کے لیے زیادہ قدر پیدا کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔ زیادہ سرمایہ کاری، زیادہ پیداواریت، زیادہ ویلیو ایڈیشن اور زیادہ برآمدات ہمارا صنعتی ہدف ہونا چاہیے۔

مزید خبریں