ٹیکس سال 2023 کے ٹیکس دہندہ کے زیر التوا انکم ٹیکس ریفنڈ کلیم کو فوری طور پر نمٹایا جائے ، وفاقی ٹیکس محتسب کی ایف بی آر کو ہدایت

وفاقی ٹیکس محتسب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت کی ہے کہ ٹیکس سال 2023 کے ایک ٹیکس دہندہ کے زیر التوا انکم ٹیکس ریفنڈ کلیم کو فوری طور پر نمٹایا جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ زیر التوا ریفنڈ کلیمز یا ایڈجسٹمنٹ درخواستوں کے فیصلے سے قبل کسی قسم کی جبری ٹیکس وصولی کی کارروائی شروع نہ کی جائے

اسلام آباد۔8اپریل (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت کی ہے کہ ٹیکس سال 2023 کے ایک ٹیکس دہندہ کے زیر التوا انکم ٹیکس ریفنڈ کلیم کو فوری طور پر نمٹایا جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ زیر التوا ریفنڈ کلیمز یا ایڈجسٹمنٹ درخواستوں کے فیصلے سے قبل کسی قسم کی جبری ٹیکس وصولی کی کارروائی شروع نہ کی جائے۔ترجمان کے مطابق یہ ہدایات ایک شکایت کی سماعت کے بعد جاری کی گئیں جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابقہ ٹیکس سالوں کے ریفنڈز کو ٹیکس سال 2025 کے واجبات کے خلاف ایڈجسٹ نہیں کیا جا رہا۔ تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ نے ٹیکس سال 2017، 2018، 2019، 2020 اور 2023 کے ریفنڈ کلیمز کی ایڈجسٹمنٹ کے لئے بروقت درخواستیں جمع کرائیں تاہم محکمانہ تاخیر اور عدم توجہی کے باعث کوئی پیشرفت نہ ہو سکی جس پر ٹیکس دہندہ نے انصاف کے حصول کے لئے وفاقی ٹیکس محتسب سے رجوع کیا۔ وفاقی ٹیکس محتسب کی جانب سے کیس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قرار دیا گیا کہ ٹیکس سال 2017 تا 2020 کے ریفنڈ کلیمز تاحال حتمی مرحلے میں داخل نہیں ہو سکے کیونکہ ان کا انحصار متعلقہ اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلوں پر عملدرآمد سے ہے تاہم ٹیکس سال 2023 کے معاملے میں واضح غفلت سامنے آئی، جہاں ٹیکس دہندہ نے 2 اکتوبر 2025 کو 44.673 ملین روپے کا ریفنڈ کلیم دائر کیا تھا، جسے مقررہ قانونی مدت کے اندر نمٹانا محکمہ کی ذمہ داری تھی، مگر ایسا نہ کیا گیا۔

ٹیکس دہندہ نے 9 جنوری 2026 کو مذکورہ ریفنڈ کو ٹیکس سال 2025 کے واجبات کے خلاف ایڈجسٹ کرنے کی باقاعدہ درخواست بھی دی لیکن اس پر بھی کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ بعد ازاں وفاقی ٹیکس محتسب سیکرٹریٹ کی جانب سے نوٹسز جاری ہونے کے بعد متعلقہ حکام نے مارچ 2026 میں اس معاملے پر پیشرفت کی۔وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے فیصلے میں ایف بی آر کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب محکمہ اپنی جانب سے عائد کردہ ٹیکس واجبات کے خلاف ریفنڈز کی ایڈجسٹمنٹ میں غیر معمولی تیزی دکھاتا ہے جبکہ دوسری جانب ٹیکس دہندگان کو یہی سہولت فراہم کرنے میں بلاجواز تاخیر کی جاتی ہے جو امتیازی اور من مانا رویہ ہے۔محتسب نے اس طرز عمل کو وفاقی ٹیکس محتسب آرڈیننس 2000 کے تحت بدانتظامی قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ریجنل ٹیکس آفس اسلام آباد فوری طور پر ٹیکس سال 2023 کے زیر التوا ریفنڈ کلیم کو قانون کے مطابق نمٹائے۔ ساتھ ہی ممبر داخلی محصولات (آپریشنز) کو ہدایت دی گئی کہ تمام فیلڈ فارمیشنز کو واضح احکامات جاری کیے جائیں کہ جب تک زیر التوا ریفنڈ کلیمز اور ایڈجسٹمنٹ درخواستوں پر فیصلہ نہ ہو، اس وقت تک جبری ٹیکس وصولی کی کارروائی شروع نہ کی جائے۔وفاقی ٹیکس محتسب نے مزید ہدایت کی کہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ 60 روز کے اندر جمع کرائی جائے۔