وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کی معاشی سمت واضح ہے، پائیدار ترقی کے لئے پیداوار، کاروبار، سرمایہ کاری اور روزگار کا فروغ ناگزیر ہے،وزیراعظم نے مالیاتی سہولتوں تک رسائی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی کو حکومتی معاشی ایجنڈے کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔
پائیدار ترقی کے لئے پیداوار، کاروبار، سرمایہ کاری اور روزگار کا فروغ ناگزیر ہے، ہارون اختر خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کی معاشی سمت واضح ہے، پائیدار ترقی کے لئے پیداوار، کاروبار، سرمایہ کاری اور روزگار کا فروغ ناگزیر ہے،وزیراعظم نے مالیاتی سہولتوں تک رسائی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی کو حکومتی معاشی ایجنڈے کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں زراعت، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کے لئے مالی سہولتوں تک رسائی کے موضوع پر مشاورتی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے تحت مالی وسائل ان افراد اور کاروباروں تک پہنچانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، مالی وسائل تک رسائی کسی فرد کی زندگی ہی نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان میں 70 لاکھ سے زائد چھوٹے اور درمیانے کاروباری ادارے معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جی ڈی پی میں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کا حصہ 40 فیصد سے زائد ہے، ملکی برآمدات میں ایس ایم ایز کا حصہ تقریباً 30 فیصد ہے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ غیر زرعی روزگار کے 80 فیصد تک مواقع چھوٹے اور درمیانے کاروباروں سے وابستہ ہیں، چھوٹے اور درمیانے کاروبار پاکستان کی کاروباری سرگرمیوں، مقامی پیداوار اور روزگار کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کاروبار صرف عزم اور صلاحیت سے ترقی نہیں کرتے، انہیں آگے بڑھنے کے لئے مالی وسائل بھی درکار ہوتے ہیں۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ بہت سے کاروباری افراد کے پاس قابلِ عمل منصوبے اور مارکیٹ میں مواقع موجود ہیں، مگر سستے قرضوں تک محدود رسائی ان کی ترقی میں رکاوٹ ہے، ایس ایم ایز کو خام مال کی خریداری، مشینری کی بہتری اور کاروباری آرڈرز پورے کرنے کے لئے مناسب ورکنگ کیپٹل فراہم کرنا ضروری ہے۔ مشیر وزیراعظم نے کہا کہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو چھوٹے کاروباروں کی ضروریات کے مطابق قرضوں کی سہولتیں اور مؤثر طریقہ کار وضع کرنا ہو گا، چھوٹے کاروباروں کے لئے ڈیجیٹل قرضہ جاتی سہولتوں، رسک شیئرنگ اور بہتر کریڈٹ اسیسمنٹ کے نظام کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم کی قائم کردہ ایکسس ٹو فنانس سٹیئرنگ کمیٹی نے مالی سال 2028 کے اختتام تک ایس ایم ای فنانسنگ 2 ہزار ارب روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، مالی سال 2028 کے اختتام تک فعال ایس ایم ای قرض داروں کی تعداد 7 لاکھ 75 ہزار تک بڑھانے کا ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای فنانسنگ کی کامیابی صرف قرضوں کی فراہمی سے نہیں بلکہ کاروباروں کی توسیع، روزگار کے نئے مواقع اور برآمدات میں اضافے سے جانچی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سمیڈا کاروباری افراد کی مالی آگاہی، کاروباری تیاری اور مالیاتی اداروں کے ساتھ رابطوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ کاروباری ترقی اور مالی سہولتوں کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو جدید زراعت اپنانے کے لئے ضروری مالی وسائل فراہم کئے بغیر زرعی پیداوار میں اضافے کی توقع نہیں کی جا سکتی، کسانوں کو جدید مشینری، معیاری بیج، مؤثر آبپاشی اور ذخیرہ کرنے کی سہولتوں کے لئے مناسب مالی معاونت درکار ہے، زرعی شعبے میں مالی سہولتوں کی فراہمی سے پیداوار میں اضافہ اور فصلوں کے ضیاع میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ زرعی شعبے اور زرعی بنیادوں پر قائم کاروباروں کو مالی معاونت فراہم کر کے ویلیو ایڈیشن اور مضبوط سپلائی چین کو فروغ دینا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ سستے ہاؤسنگ فنانس کی فراہمی خاندانوں کو اپنا گھر بنانے میں مدد دینے کے ساتھ ملکی معیشت کو بھی تقویت دے سکتی ہے، تعمیراتی شعبے کی ترقی سے سیمنٹ، سٹیل، برقی آلات اور دیگر مقامی صنعتی مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ ہاؤسنگ فنانس کی سہولتوں کو بہتر بنانا تعمیراتی شعبے سے وابستہ چھوٹے کاروباروں اور محنت کشوں کے لئے بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سہولتوں تک رسائی، سرمایہ کاری، روزگار اور جامع معاشی ترقی کے درمیان مضبوط تعلق ہے، مالیاتی اداروں کو قرضوں کے طریقہ کار کو آسان بنانے جبکہ کاروباری افراد کو مالیاتی آگاہی اور دستاویزی تقاضوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری، ذمہ داریوں کا واضح تعین اور نتائج کی مؤثر نگرانی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشاورت اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب اس کے نتیجے میں عملی تبدیلی اور ٹھوس اقدامات سامنے آئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج کے مشاورتی اجلاس کا مقصد مالی سہولتوں کی راہ میں حائل عملی رکاوٹوں کی نشاندہی اور قابلِ عمل حل تلاش کرنا ہے، ہماری کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہو گا کہ کسان بہتر آلات خرید سکے، کاروباری شخص نیا آرڈر پورا کر سکے اور خاندان اپنے گھر کے حصول کے قریب پہنچ سکے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ مالی وسائل کو پیداواری سرگرمیوں تک پہنچانا سرمایہ کاری، روزگار اور معاشرے کے تمام طبقات تک ترقی کے ثمرات پہنچانے کے لئے ناگزیر ہے۔







