پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صوبہ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت کے حوالے سے دستور کے آرٹیکل 232(7) اور 234(1) کے تحت قراردادیں پیش

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صوبہ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت کے حوالے سے دستور کے آرٹیکل 232(7) اور 234(1) کے تحت قراردادیں پیش

اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قواعد معطل کرکے صوبہ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت کے حوالے سے دستور کے آرٹیکل 232(7) اور دستورکے آرٹیکل 234(1) کے تحت قراردادیں پیش کردی گئیں۔ جمعرات کو وفاقی وزیر پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تحریک پیش کی کہ دستورکے آرٹیکل 232کی شق (7) اور آرٹیکل 234کی شق (3)کے مطابق قراردادیں پیش کرنے کےلئے متعلقہ قواعد معطل کئے جائیں ۔ اس معاملے پر سپیکر نے ایوان سے اپوزیشن کے اصرار پر ارکان کو باقاعدہ کھڑا کرکے رائے شماری کرائی تو تحریک کے حق میں ایوان کی بھاری اکثریت یعنی 214 ارکان نے ووٹ دیا۔

اس طرح یہ تحریک کثرت رائے سے منظور کرلی گئی جس کے بعد ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان میں قرارداد پیش کی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 232 کی شق (1) کے دوسرے جملہ شرطیہ کے تحت 11 اکتوبر2026کوصدرمملکت کی جانب سے صوبہ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت کے اعلان کو مشترکہ اجلا س اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 232کی شق (7)کے تحت منظور کرتا ہے۔ دوسری قرارداد پیش کرتے ہوئے وزیر پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستورکے آرٹیکل 234کی شق (1)کے تحت 11اکتوبر2026کو صدرمملکت کی جانب سے صوبہ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت کے اعلان کو مشترکہ اجلاس اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 234کی شق (3)کے تحت منظور کرتا ہے۔ جس کے بعد ایوان میں ان دونوں قراردادوں پر بحث کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

مزید خبریں