پاکستانی معیشت میں بہتری کا تسلسل برقرار ہے، مالی سال 2027 میں شرح نمو 3.7 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2026 میں بہتری کا تسلسل برقرار رکھا اور اقتصادی شرح نمو مالی سال 2025 کے 3.2 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 3.7 فیصد ہوگئی، جبکہ مالی سال 2027 میں بھی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔یہ بات ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک رپورٹ میں کہی …

اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2026 میں بہتری کا تسلسل برقرار رکھا اور اقتصادی شرح نمو مالی سال 2025 کے 3.2 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 3.7 فیصد ہوگئی، جبکہ مالی سال 2027 میں بھی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔یہ بات ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 میں اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری وسیع البنیاد رہی، جس میں خدمات کے شعبے کی مضبوط کارکردگی، صنعتی پیداوار میں بحالی، زراعت کے شعبے میں بہتری اور نجی سرمایہ کاری میں اضافے نے اہم کردار ادا کیا، تاہم مشرق وسطیٰ میں تنازع کے باعث مالی سال کی آخری سہ ماہی میں اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقتصادی اصلاحات کے تسلسل ، بیرونی مالیاتی بفرز میں بہتری، عالمی کیپٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی اور حالیہ خود مختار کریڈٹ ریٹنگز میں بہتری سے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور نجی سرمایہ کاری کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔ تاہم توانائی کی بلند قیمتیں اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے اثرات سمیت بیرونی غیر یقینی صورتحال اقتصادی نمو میں مزید تیزی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

پاکستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فن نے بتایا کہ گزشتہ دو برس کے دوران پاکستان نے کلی معیشت کے استحکام کے حصول میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس کا اظہار بہتر اقتصادی نمو، مضبوط بیرونی مالیاتی بفرز، بحال ہوتے مارکیٹ اعتماد اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگز میں بہتری سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری میں اضافے، بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں معیشت کی لچک مضبوط بنانے اور زیادہ مضبوط و جامع اقتصادی نمو کے حصول کے لیے اصلاحات کے عمل کو برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں میں توسیع نے اقتصادی نمو کو سہارا دیا۔

سیلاب سے بڑی فصلوں کو ہونے والے نقصانات کے باوجود زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی، جبکہ کم شرح سود اور کاروباری اعتماد میں بہتری کے باعث نجی سرمایہ کاری میں 8.6 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران مالیاتی استحکام کے عمل میں بھی پیش رفت ہوئی جبکہ مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا، جس سے بیرونی شعبے میں معیشت کی لچک بہتر ہوئی۔ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بھی بہتری آئی اور ایس اینڈ پی نے جولائی 2026 جبکہ موڈیز نے اگست 2026 میں ملک کی ریٹنگ اپ گریڈ کی۔

میکرو اکنامک استحکام، مضبوط بیرونی مالیاتی بفرز اور اصلاحات پر مسلسل عملدرآمد سے معیشت کی بہتری کی عکاسی ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے اپریل اور مئی 2026 میں یورو بانڈ اور پانڈا بانڈز کے اجرا کے ذریعے عالمی کیپٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی بھی حاصل کی۔اے ڈی بی کے مطابق مالی سال 2026 میں اوسط مہنگائی 7.1 فیصد رہی جو مالی سال 2025 میں 4.5 فیصد تھی۔ سال کے دوسرے نصف میں اشیاء خورونوش اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں مالی سال 2027 کے دوران اوسط مہنگائی 8.3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ توانائی، لاجسٹکس اور زرعی مداخل کی بلند لاگت کے باعث مقامی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں پاکستان کے اقتصادی منظرنامے کو متعدد خطرات سے مشروط قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں شدت آنے سے توانائی کی درآمدی لاگت، مہنگائی اور خلیجی ممالک کی لیبر مارکیٹوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ترسیلات زر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کفایت شعاری کے اقدامات دوبارہ متعارف کرائے جانے کی صورت میں ملکی طلب اور اقتصادی سرگرمیوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے، خصوصاً اس صورت میں جب اخراجات میں کمی توقعات سے زیادہ ہو۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر مالیاتی حالات میں سختی، ٹیکس محصولات میں کمی، موسمی حالات کے باعث زرعی شعبے کو نقصانات اور توانائی کے شعبے و سرکاری اداروں میں اصلاحات میں تاخیر بھی اقتصادی منظرنامے کے لیے اہم خطرات ہیں۔

بینک نے اس امر پر زور دیا کہ مالیاتی اور بیرونی استحکام کو مزید مضبوط بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے اقتصادی اصلاحات پر مستقل اور مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔