پاکستان اور عالمی بینک گروپ نے معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، نجی سرمایہ کاری، نتیجہ خیز روزگار اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری میں تبدیلی لانے کے لئے شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔یہ اتفاق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور اورعالمی بینک گروپ میں پاکستان کے گورنر احد چیمہ اورعالمی بینک کے صدر اجے بنگا کے درمیان بنکاک میں 2026 کے عالمی بینک گروپ اور آئی …
پاکستان اورعالمی بینک کا سرمایہ کاری، روزگار اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ کےلئے شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور عالمی بینک گروپ نے معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، نجی سرمایہ کاری، نتیجہ خیز روزگار اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری میں تبدیلی لانے کے لئے شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔یہ اتفاق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور اورعالمی بینک گروپ میں پاکستان کے گورنر احد چیمہ اورعالمی بینک کے صدر اجے بنگا کے درمیان بنکاک میں 2026 کے عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ملاقات میں ہوا۔
ملاقات میں پاکستان اور عالمی بینک گروپ کے دیرینہ اشتراکِ عمل کے آئندہ مرحلے اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر احد چیمہ نے عالمی بینک گروپ کی عملی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے صدر اجے بنگا کی کوششوں بالخصوص منصوبوں کی تیاری کا اوسط دورانیہ 19 ماہ سے کم کرکے 9ماہ کرنے اور مالی سال 2026 میں 112 ارب ڈالر کے نجی سرمائے کو متحرک وحاصل کرنے کو سراہا۔انہوں نے نظامی رکاوٹوں کو دور کرنے اور منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے کے لئے وزیراعظم کی عملدرآمد اصلاحات سے متعلق سٹیئرنگ کمیٹی کی قیادت میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمام حکومتی اداروں کو شامل کرتے ہوئے کی جانے والی جامع اصلاحاتی کوششوں پربھی روشنی ڈالی دونوں فریقوں نے طریق کار آسان بنانے، عملی موثریت بڑھانے اور ترقیاتی نتائج کی بروقت فراہمی کے لئے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔
احد چیمہ نے کہا کہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پر عملدرآمد اور پالیسی اصلاحات کو معیشت کے اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر موثر سرمایہ کاری سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ، نجی سرمایہ کاری کا فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جا سکیں۔ ترجیحی شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت، معدنیات و ویلیو ایڈیشن، بنیادی صحت، ہنرمندی کی ترقی، زرعی ویلیو چینز، توانائی اور ٹرانسپورٹ کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔وفاقی وزیر نے رابطہ کاری بہتر بنانے، مسابقت بڑھانے اور پائیدار، روزگار دوست معاشی ترقی کے لئے ایم ایل ون اور قومی مصنوعی ذہانت و معاشی ترقی پروگرام سمیت اہم اقدامات کے لیے عالمی بینک کی مسلسل مالی معاونت کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ شراکت داری کا بنیادی مقصد ایسے دیرپا ترقیاتی نتائج کا حصول ہونا چاہئے جن کی پیشرفت قابلِ اعتماد طریقے سے جانچی جا سکے اور جن سے مستفید ہونے والے افراد کی زندگیوں میں ٹھوس بہتری آئے۔انہوں نے سرمایہ کاری، جدت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں نجی شعبے کو مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 2028 تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے مالی معاونت دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وزیراعظم اس مقصد کے لئے ترقیاتی شراکت داروں کی معاونت متحرک کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے نجی شعبے کی سرگرمیوں میں وسعت اور سرمایہ کاری متحرک کرنے کے لئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کاروباری اداروں اور حتمی مستفید ہونے والوں کے لئے پائیدار نتائج یقینی بنانے کی غرض سے موزوں مالیاتی اداروں اور نجی شراکت داروں کے انتخاب کی اہمیت پر زور دیا۔ملاقات میں قومی مفادات کے تزویراتی تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے سرمایہ کاری متحرک کرنے کے لئے خودمختار دولت فنڈ کے قیام کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کو عالمی بینک گروپ کی عالمی مہارت اور سرکاری و نجی سرمایہ کاری متحرک کرنے کی صلاحیت سے مربوط کرکے اصلاحات اور سرمایہ کاری کے ثمرات کو پائیدار معاشی ترقی، نتیجہ خیز روزگار اور پاکستانی عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری میں تبدیل کیا جائے گا۔







