عالمی بینک اورپاکستان نے بینک کی جانب سے پاکستان کیلئے 10سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پرعمل درآمدتیز کرنے اورترقیاتی نتائج کوکوبہتربنانے کے عزم کااعادہ کیا ہے۔وزارت اقتصادی امورکی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور اور گورنر ورلڈ بینک گروپ احد چیمہ نے بینکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے کے سالانہ اجلاس کے موقع پرعالمی بینک کی مینیجنگ ڈائریکٹر آپریشنز انا بیئرڈے سے …
پاکستان اورعالمی بینک کا سی پی ایف پر عمل درآمد تیز کرنے اور ترقیاتی نتائج بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ

مزید خبریں
بنکاک۔15اکتوبر (اے پی پی):عالمی بینک اورپاکستان نے بینک کی جانب سے پاکستان کیلئے 10سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پرعمل درآمدتیز کرنے اورترقیاتی نتائج کوکوبہتربنانے کے عزم کااعادہ کیا ہے۔وزارت اقتصادی امورکی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور اور گورنر ورلڈ بینک گروپ احد چیمہ نے بینکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے کے سالانہ اجلاس کے موقع پرعالمی بینک کی مینیجنگ ڈائریکٹر آپریشنز انا بیئرڈے سے ملاقات کی، ملاقات میں پاکستان کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پر عمل درآمد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر احد چیمہ نے سی پی ایف کے مقاصد کو ٹھوس ترقیاتی نتائج میں ڈھالنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تکنیکی اور مالی معاونت میں اضافے، مختلف شعبوں پر مشتمل مربوط پروگراموں اور پیش رفت کی نگرانی اور اثرات کی پیمائش کے لیے ڈیجیٹل نظام وضع کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے منصوبوں کی بہتر تیاری کے لیے مخصوص پراجیکٹ ریڈی نیس سہولیات قابلِ پیش گوئی مالی معاونت اور عمل درآمد میں موثر تعاون کی اہمیت اجاگر کی تاکہ منصوبوں کی منظوری اور تکمیل کا عمل تیز ہو سکے۔منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں نظامی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے وزیراعظم کے پورے حکومتی نظام پر مشتمل اقدام کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اقتصادی امور نے دونوں جانب عملی کارکردگی بہتر بنانے، ادارہ جاتی صلاحیت مضبوط کرنے اورمنصوبوں کی بروقت تکمیل پر مشترکہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ رعایتی شرائط پر دستیاب وسائل کو موثر طور پر بروئے کار لایا جائے تاکہ قرضوں کے پائیدار انتظام کو برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی فوائد زیادہ سے زیادہ کیے جا سکیں۔ملاقات میں انسانی ترقی، موسمیاتی پائیداریت، پانی و صفائی ستھرائی اور معاشی تبدیلی کے لیے اہم شعبوں میں عالمی بینک گروپ کی معاونت پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وفاقی وزیر نے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے شعبوں میں سرمایہ کاری کو اہم قرار دیا تاکہ روزگار میں اضافہ اور جامع ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے ایم ایل ون ریلوے اپ گریڈیشن منصوبے کے لیے مزید معاونت اور تقریبا 1,800 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کے ساتھ اقتصادی ریلوے کوریڈور کے وژن پر بھی گفتگو کی جس کا مقصد رابطہ کاری کو مضبوط اور معاشی مواقع کو وسعت دینا ہے۔
پاکستان کے معدنیات کے شعبے کو آگے بڑھانے کے لیے مجوزہ منرلز کمپیکٹ بھی زیر بحث آیا۔ انا بیئرڈے نے پاکستان کے ترجیحی شعبوں کی معاونت اور حکومت کے ساتھ مل کر عملی کارکردگی بہتر بنانے اور منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنے کے لیے عالمی بینک کے عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے سی پی ایف کے تحت مشترکہ ترجیحات کو آگے بڑھانے اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے تعاون مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا کہ ترقیاتی مالی معاونت پاکستان کے عوام کے لیے بروقت، پائیدار اور قابلِ پیمائش فوائد میں تبدیل ہو۔








