لاہور۔4اکتوبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے سفارتی سرمائے کو موثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے علاقائی اقتصادی انضمام، بہتر باہمی تعلقات اور ایران کے ساتھ مستحکم روابط کو فروغ دینا چاہیے، جبکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اقتصادی روابط میں توسیع سے پاکستان کے لیے نئی منڈیاں اور معاشی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ …
پاکستان اپنے سفارتی اثرورسوخ کو بروئے کار لا کر علاقائی اقتصادی انضمام کو فروغ دے، افتخار علی ملک

مزید خبریں
لاہور۔4اکتوبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے سفارتی سرمائے کو موثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے علاقائی اقتصادی انضمام، بہتر باہمی تعلقات اور ایران کے ساتھ مستحکم روابط کو فروغ دینا چاہیے، جبکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اقتصادی روابط میں توسیع سے پاکستان کے لیے نئی منڈیاں اور معاشی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اتوار کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا پاکستان کی مصنوعات اور خدمات کے لیے اہم منڈیاں ثابت ہوسکتے ہیں۔
گوادر کو وسطی ایشیا کی خشکی میں گھری معیشتوں کے لیے ٹرانس شپمنٹ اور لاجسٹکس کا اہم گیٹ وے بنایا جاسکتا ہے، جس سے پاکستان کو ٹرانزٹ آمدنی حاصل ہونے کے ساتھ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان، کرغزستان اور تاجکستان ایسی منڈیاں ہیں جہاں پاکستان نے اب تک محدود سطح پر رسائی حاصل کی ہے، تاہم علاقائی رابطوں میں بہتری سے ان ممالک کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون کو وسعت دی جاسکتی ہے۔
افتخار علی ملک نے کہا کہ علاقائی رابطہ کاری سے ایران پاکستان گیس پائپ لائن، تاپی اور کاسا جیسے منصوبوں کو بھی دوبارہ فعال کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، تاہم ان منصوبوں کی پیش رفت سیاسی، مالی، تجارتی اور سکیورٹی کے تقاضوں کی تکمیل سے مشروط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تجارت میں اضافے سے ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، گوداموں، بینکاری، انشورنس، آئی ٹی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں طلب بڑھے گی، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور سرحدی علاقوں کی آبادیوں کا معاشی مفاد بھی خطے میں امن و استحکام کے ساتھ جڑ جائے گا۔
سابق صدر سارک چیمبر نے کہا کہ مالیاتی اصلاحات، توانائی کے شعبے کی تنظیم نو، ٹیکس اصلاحات، ڈی ریگولیشن، نجکاری، برآمدات میں تنوع، انسانی سرمائے کی ترقی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل بلا تعطل جاری رہنا چاہیے۔ تاہم ان اصلاحات کے ساتھ ایسے اقدامات بھی ضروری ہیں جو معاشی سرگرمیوں پر عائد سکیورٹی سے متعلق اضافی اخراجات اور خطرات کو کم کریں۔







