وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان جرمنی کے ساتھ دوستی اور شراکت داری کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے لئے پرعزم ہے، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات اور تجارتی روابط کو نئی بلندیوں تک پہنچانا چاہتے ہیں، پاکستان جی ایس پی پلس کی حیثیت برقرار رکھنے کے لئے تمام مطلوبہ معیارات پر پورا اترے گا، پاکستان اور …
پاکستان جرمنی کے ساتھ دوستی اور شراکت داری کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے لئے پرعزم ہے،ڈاکٹر مصدق ملک

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان جرمنی کے ساتھ دوستی اور شراکت داری کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے لئے پرعزم ہے، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات اور تجارتی روابط کو نئی بلندیوں تک پہنچانا چاہتے ہیں، پاکستان جی ایس پی پلس کی حیثیت برقرار رکھنے کے لئے تمام مطلوبہ معیارات پر پورا اترے گا، پاکستان اور جرمنی کے درمیان موسمیاتی تبدیلی اور ترقیاتی تعاون کے شعبوں میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، پاک جرمن تعلقات انسانی ہمدردی، تعلیم اور باہمی تعاون کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں، پاکستان اورجرمنی کے سفارتی تعلقات کے قیام کو 75 سال مکمل ہو گئے ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات دوستی، اتحاد اور شراکت داری کی مضبوط مثال ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کوجرمنی کے قومی دن کے حوالے سے اسلام آباد میں جرمنی کے سفارتخانہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ جرمنی کے دونوں حصوں کا اتحاد اس بات کی روشن مثال ہے کہ عوام کی محبت، باہمی اتحاد اور یکجہتی سے تقسیم کی دیواریں گرائی جا سکتی ہیں، محبت اور اتحاد کے ذریعے گرائی جانے والی دیواریں زیادہ دیرپا ہوتی ہیں۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے شرکا کو نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ جرمنی کے دونوں حصوں کا دوبارہ متحد ہونا باعث مسرت اور اعزاز ہے، جرمنی کے اتحاد کے لئے طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا بلکہ عوام اپنی مرضی اور محبت کے جذبے کے تحت دیوار عبور کرکے ایک دوسرے سے جا ملے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب امید، دوستی اورمحبت کا پیغام دیتی ہے،دیواریں تعمیر کی جا سکتی ہیں لیکن انہیں گرایا بھی جا سکتا ہے، جب دیواریں محبت اور باہمی اتحاد سے گرائی جائیں تو اس کے اثرات زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ جرمنی کے دونوں حصوں کو انتظامی طور پر متحد کرنے میں صرف 11 ماہ لگےجبکہ پاکستان میں بین الوزارتی اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس کی منظوری میں اس سے زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ انہوں نے جرمنی کے اتحاد کو ایک غیر معمولی کامیابی قرار دیتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ اتحاد اوریکجہتی پر یقین رکھنے والے تمام افراد کے لئے جرمنی کا تجربہ امید افزا ہے، زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب کےفرق کے باوجود انسانوں میں مشترکات تقسیم کرنے والے عوامل سے کہیں زیادہ ہیں۔وفاقی وزیرنے مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں جرمنی کے شہر ہائیڈل برگ کا سفر کیاجہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی اور جرمن زبان سیکھی۔
انہوں نے اس بات پر اظہار تشکر کیا کہ جرمنی میں ایک خوبصورت نہر کے قریب سڑک کو ڈاکٹر علامہ اقبال کے نام سے منسوب کیا گیا۔انہوں نےجرمن نژاد ڈاکٹر رتھ فاء کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیاجو بھارت جاتے ہوئے ویزے کے مسائل کے باعث کراچی میں رکیں اور وہاں جذام کے مریضوں کے علاج کے لئے قائم ایک مرکز کا دورہ کیا۔ مریضوں کی حالت دیکھ کر انہوں نے پاکستان میں قیام کرنے اور اپنی زندگی جذام کے مریضوں کی خدمت کے لئے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔ڈاکٹر مصدق ملک نےکہا کہ ڈاکٹر رتھ فا ء نےپاکستان میں جذام کے علاج کے لئے سینکڑوں مراکز قائم کئے، ان کی وفات سے قبل پاکستان کو جذام سے پاک ملک قرار دیا گیا،وفات کے وقت ان کے جسد خاکی کو پاکستانی پرچم میں لپیٹا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جرمنی پاکستان کے قریبی شراکت داروں اور دوست ممالک میں شامل ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں،پاکستان جرمنی کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان جی ایس پی پلس کا درجہ برقرار رکھنے کے لئےضروری اقدامات کرنے کے لئے پرعزم ہے،پاکستان کسی رعایت کا طلب گار نہیں بلکہ تمام متعلقہ شعبوں میں مقررہ معیارات پر پورا اترنے کے عزم کا اظہار کرتا ہے تاکہ دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات اور اقتصادی و تجارتی روابط کو مزید بلندیوں تک لے جایا جا سکے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ جرمنی یورپ میں پاکستان کاسب سے بڑا شراکت دار ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں وہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے بڑے شراکت داروں میں شامل ہوگا۔انہوں نےپاکستان کے ساتھ شراکت داری پر جرمنی کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان جرمنی کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات اور تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔







