پاکستان نے پولیو کے کیسز میں کمی لانے کیلئے نمایاں پیش رفت کی ہے، قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی کا عالمی یومِ انسدادِ پولیو پر پیغام

قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نےفرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے پولیو کے کیسز میں کمی لانے کیلئے نمایاں پیش رفت کی ہے، ویکسینیشن مہمات کے دوران خاندانوں کو معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات اور دیگر ضروری طبی سہولیات سے منسلک کرنے کے مواقع سے بھی فائدہ اٹھاناچاہیے۔

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نےفرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے پولیو کے کیسز میں کمی لانے کیلئے نمایاں پیش رفت کی ہے، ویکسینیشن مہمات کے دوران خاندانوں کو معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات اور دیگر ضروری طبی سہولیات سے منسلک کرنے کے مواقع سے بھی فائدہ اٹھاناچاہیے۔

ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ عالمی یومِ انسدادِ پولیو کے موقع پر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پولیو کے خلاف جنگ میں اس وقت تک مسلسل توجہ اور کوششوں کی ضرورت ہے جب تک ہر بچے کو اس بیماری سے محفوظ نہ بنا دیا جائے، پاکستان نے اس حوالے سے پیش رفت کی ہے تاہم وائرس کی مسلسل موجودگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ویکسینیشن مہمات اور معمول کےحفاظتی ٹیکہ جات کے ذریعے ہر بچے تک پہنچنے کی کوششیں مستقل بنیادوں پر جاری رکھی جائیں، کسی بھی بچے کو ویکسین تک رسائی میں رکاوٹ یا پولیو کے قطرے پلانے کا موقع ضائع ہونے کے باعث غیر محفوظ نہیں رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ویکسین کی خوراک سے محروم رہنے والا ہر بچہ خطرے سے دوچار رہتا ہے، کسی خاندان کے لیے پولیو کا مطلب ایسی عمر بھر کی معذوری ہوسکتی ہے جو بچے کی نقل و حرکت، تعلیم اور خودمختاری کو متاثر کرتی ہے، ایسے نتائج سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کی قابلِ اعتماد سہولیات، باقاعدہ حفاظتی ٹیکہ جات اور کسی بچے کی خوراک رہ جانے کی صورت میں بروقت اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پولیو کے کیسز میں کمی لانے کے لیے نمایاں پیش رفت کی ہے لیکن وائرس اب بھی پھیل رہا ہے، اس صورتحال میں ان علاقوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جہاں بچوں تک پہنچنا مشکل ہے اور وہاں ویکسینیشن کی شرح کو بہتر بنایا جائے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ عوام کا اعتماد بھی اتنا ہی اہم ہے، والدین کو صحت کے ماہرین سے سوالات کرنے اور واضح و قابلِ اعتماد جوابات حاصل کرنے کا موقع ملنا چاہیے، کمیونٹی کے نمائندے، علمائے کرام اور مقامی رہنما عوام کے خدشات دور کرنے اور خاندانوں کو ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ تعاون پر آمادہ کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ خاندان ویکسینیشن کی اہمیت کو سمجھیں اور عملی رکاوٹیں بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں آڑے نہ آئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ان فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے جو پاکستان بھر کی آبادیوں میں یہ اہم ذمہ داری انجام دے رہے ہیں، ان کی کوششوں کے ساتھ ضروری معاونت، وسائل اور سکیورٹی کی فراہمی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے تاکہ وہ محفوظ طریقے سے بچوں تک پہنچ سکیں،ویکسینیشن مہمات کے دوران خاندانوں کو معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات اور دیگر ضروری طبی سہولیات سے منسلک کرنے کے مواقع سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ انسدادِ پولیو کے موقع پر میں متعلقہ حکام پر زور دیتا ہوں کہ وہ ویکسینیشن کی کوششوں کی کڑی نگرانی جاری رکھیں، ویکسین کی خوراک سے محروم رہ جانے والے بچوں تک دوبارہ رسائی حاصل کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر مہم کے دوران حاصل ہونے والی پیش رفت برقرار رہے، بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے قومی منصوبہ بندی سے لے کر ہر مقامی آبادی میں عملی اقدامات تک ہر سطح پر مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔