اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر محمد زکریا اکبر ضیاء نے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیمبر دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے باہمی مفاد کے لیے قابل عمل کاروباری ماڈلز، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کو فروغ دینے کے لیے پرعزم …
پاکستان چین تجارت بڑھانے کے لیے قابل عمل کاروباری ماڈلز اور مشترکہ منصوبے ناگزیر ہیں، صدر آئی سی سی آئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر محمد زکریا اکبر ضیاء نے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیمبر دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے باہمی مفاد کے لیے قابل عمل کاروباری ماڈلز، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار چین کے پانچ رکنی کاروباری و سرمایہ کاری وفد کے استقبال کے موقع پر کیا جس کی قیادت سنڈی چن کر رہی تھیں جو چینی کاروباری شخصیات کے پاکستان بالخصوص آئی سی سی آئی، کے دوروں کا باقاعدگی سے اہتمام کرتی ہیں تاکہ وہ یہاں تجارتی تعاون اور کاروباری ترقی کے مواقع تلاش کر سکیں۔
محمد زکریا اکبر ضیاء نے کہا کہ چین نہ صرف پاکستان کا قابل اعتماد سٹریٹجک شراکت دار ہے بلکہ ٹیکنالوجی، صنعتی مہارت اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں بھی ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کو ٹھوس معاشی فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست روابط، کاروباری شخصیات کی باہمی ملاقاتوں اور قابل عمل مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تزویراتی محلِ وقوع، وسیع ہوتی صارفین کی مارکیٹ، کاروباری صلاحیتیں اور سرمایہ کاری کے امکانات چینی کمپنیوں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتے ہیں۔ چینی سرمایہ کار آئی سی سی آئی کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے پاکستانی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھا سکتے ہیں اور مقامی کاروباری اداروں کے ساتھ دیرپا تجارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔
آئی سی سی آئی کے صدر نے چینی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ اپنی مصنوعات چیمبر کے ڈسپلے سینٹر میں نمائش کے لیے پیش کریں، جہاں پاکستانی کاروباری افراد ان مصنوعات کا جائزہ لے سکیں گے، درآمدات کے موزوں مواقع تلاش کر سکیں گے اور چینی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔انہوں نے مزید اعلان کیا کہ آئی سی سی آئی اپنے احاطے میں ایک خصوصی سہولت ڈیسک قائم کرنے کے لیے تیار ہے، جو چیمبر کے اراکین کو ویزا طریقہ کار، درآمدات و برآمدات سے متعلق قواعد و ضوابط اور چین کی متعلقہ تجارتی پالیسیوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری برادری کے لیے تجارتی عمل کو آسان بنانا اور دوطرفہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔سنڈی چن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل پاکستان کو چینی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک پُرکشش منزل کے طور پر متعارف کراتی رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں مزید چینی کاروباری شخصیات پاکستان کا دورہ کریں گی، یہاں موجود تجارتی امکانات کا جائزہ لیں گی اور پاکستانی کاروباری برادری کے ساتھ دیرپا کاروباری روابط قائم کریں گی۔
آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد وقاص خان نے کہا کہ سرمایہ کاری میں دلچسپی کو عملی کاروباری معاہدوں میں تبدیل کرنے کے لیے منظم کاروباری اداروں کے درمیان ملاقاتیں (بی ٹو بی) انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ چیمبر دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کرے گا۔آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبر ابرار الحق نے اجلاس کی نظامت کی اور چینی وفد کو چیمبر کی اہم کامیابیوں، اقدامات اور تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جاری سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔اجلاس میں آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبران سید عمران بخاری، ملک راشد طفیل، اسرار الحق، زوہیب ارشد ملک، عثمان عبد الناصر، شاہد عباسی، محمد عارف، بلال سہیل صدیقی، محمد نعمان اور کاروباری برادری کے دیگر نمائندوں نے بھی شرکت کی۔







