اسلام آباد۔21نومبر (اے پی پی):پاکستان نے افغان طالبان سے دہشت گرد گروپوں کی حمایت بند کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سرحد کھولنے، تجارت کی بحالی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی روابط کے منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر کی ذمہ داری افغان حکومت پر عائد ہوتی ہے، پاکستان اسرائیلی قابض افواج اور انتہا پسند آباد کاروں کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے میں …
پاکستان کا افغان طالبان سے دہشت گرد گروپوں کی حمایت بند کرنے کے مطالبے کا اعادہ ، مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت، عالمی برادری نوٹس لے، ترجمان دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔21نومبر (اے پی پی):پاکستان نے افغان طالبان سے دہشت گرد گروپوں کی حمایت بند کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سرحد کھولنے، تجارت کی بحالی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی روابط کے منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر کی ذمہ داری افغان حکومت پر عائد ہوتی ہے، پاکستان اسرائیلی قابض افواج اور انتہا پسند آباد کاروں کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتا ہے ، پاکستان عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ، انسانی حقوق کونسل اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا نوٹس لیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کی جوابدہی کو یقینی بنائیں اور انسانی حقوق کی معتبر بین الاقوامی تنظیموں کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی اجازت دیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں میڈیا کو بتایا کہ پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کی حمایت کی وجہ سے سرحدی گزرگاہ بند کر رکھی ہے اور افغانستان کے ساتھ تمام تجارت معطل کر دی ہے۔ترجمان نے کہا کہ سرحدی گزرگاہ کھولنے، تاپی اور کاسا 1000 جیسے منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر کی ذمہ داری افغان طالبان پر عائد ہوتی ہے۔ ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ افغانستان کو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کے لیے اپنی سرزمین کا غلط استعمال بند کرنا چاہیے۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ رابطے میں رہنے کی کوشش کی لیکن اسے جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل پاکستان نے تجارت اور سلامتی کو الگ کر دیا تھا، لیکن تحمل کا مظاہرہ کیا جس کی ایک حد ہوتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ میرے خیال میں صبر کی وہ حد پار ہو گئی ہے، ہم تجارت کو ایسے نہیں ہونے دے سکتے جیسے افغان سرزمین سے پاکستانیوں کے قتل کا لائسنس دے کر تجارت کی جا رہی ہے۔ ترجمان نے ایک افغان رہنما کے پاکستان کے لیے 4000 بمبار تیار کرنے کے اعلان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بیان نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کا موقف درست ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارتی وزیر اعظم مودی کے ساتھ بات چیت کے بارے میں پوچھے گئے سوال جس میں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وہ پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے، پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس یقین دہانی کو ہم واضح طور پر شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس کی تائید بھارت سے آنے والے بیانات میں نہیں دیکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی سیاسی و عسکری قیادت جنگ کی باتیں جاری رکھے ہوئے ہے اور جارحانہ بیانات جاری کر رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ایرانی جوہری مسئلے پر پاکستان کا موقف اصولی اور مستحکم ہے کیونکہ پاکستان نے بین الاقوامی قانون کے تحت ایرانیوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کے مطابق جوہری افزودگی کے حق کو تسلیم کیا ہے۔
امریکی کانگریس کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس رپورٹ کے اختتام پر پاکستان کی زبردست کامیابی کا حوالہ دیا گیا ہے جو رپورٹ کا "کافی معنی خیز” نتیجہ ہے۔اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے میڈیا کو ہفتے کے دوران سفارتی مصروفیات سے آگاہ کیا جن میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے روس کے دورے کو اجاگر کیا ، جہاں انہوں نے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ اجلاس میں شرکت کی اور برسلز میں پاکستان-یورپی یونین سٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کے لیے شرکت کی اور چوتھے یورپی یونین انڈو-پیسیفک وزارتی فورم میں شرکت کی جہاں انہوں نے مختلف ممالک کے ہم منصبوں اور سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ہنگری نے ہنگریکم وظیفہ پروگرام 2026-2028کے فریم ورک کے تحت تعاون کی مفاہمت کی تجدید پر بھی دستخط کیے ہیں جس کے تحت پاکستان کے شہریوں کو ہنگری میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے 400 سکالرشپس دی جائیں گی۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے اسرائیلی قابض افواج اور انتہا پسند آباد کاروں کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے جس میں مسجد اقصیٰ پر بار بار دھاوا بولنا اور نمازیوں کے خلاف اشتعال انگیزی شامل ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ مقدس مقامات کے تقدس کو بین الاقوامی قانون اور تاریخی حیثیت کے مطابق یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری سے مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانے، آباد کاروں کے مزید تشدد اور دراندازیوں کو روکنے سمیت اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کی حمایت میں اس کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ایک آزاد، خودمختار، قابل عمل اور متصل فلسطین کی ریاست قائم کی جائے جو جون 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
طاہر اندرابی نے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل اور سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وسیع پیمانے پر نظر بندیوں، من مانی گرفتاریوں اور بنیادی آزادیوں پر وسیع پابندیوں کی مروجہ پالیسیاں مقبوضہ کشمیر کی آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کو ان کی شناخت اور عقیدے کی بنیاد پر پروفائل کرنے کی خبریں ان خدشات کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی کردار کو تبدیل کرنے اور کشمیری عوام کے مذہبی، ثقافتی اور سماجی ورثے کو ختم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، یہ اقدامات کشمیری آبادی کی جائز امنگوں کو دبانے کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں کشمیری نوجوان لاپتہ ہیں جبکہ کشمیری عوام کے سیاسی نمائندے بڑی تعداد میں غیر قانونی حراست میں ہیں، ایسے اقدامات کشمیری عوام کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کے حصول کے لیے ان کے پائیدار عزم کو کمزور نہیں کرسکتے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ، انسانی حقوق کونسل اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا نوٹس لیں، یہ ادارے بھارت کو فوری تدارک کے اقدامات کرنے کی ترغیب دیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کی جوابدہی کو یقینی بنائیں اور انسانی حقوق کی معتبر بین الاقوامی تنظیموں کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی اجازت دیں۔
ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کا منصفانہ، پرامن اور پائیدار حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔ بنگلہ دیش کے سابق وزیر اعظم کے مقدمے میں سنائی گئی سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے، بنگلہ دیش کے عوام اپنے مسائل کو اپنے جمہوری اور آئینی عمل کے مطابق حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔








