پاکستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت اور اس کے شراکت داروں کی مستقل نشستوں کے حصول کی کوشش کی مخالفت کا اعادہ

پاکستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت اور اس کے شراکت داروں کی مستقل نشستوں کے حصول کی کوشش کی مخالفت کا اعادہ

اقوام متحدہ ۔23اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشستوں کے حصول کے لیے گروپ آف فور میں شامل بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان کی کوششوں کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ ویٹو کے اختیار کے ساتھ یا اس کے بغیر مساوات کے بجائے عدم مساوات کو مزید مستحکم کرے گا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے بین الحکومتی مذاکرات (آئی جی این)کے دوبارہ آغاز کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں تنازعات میں اضافے کے تناظر میں سلامتی کونسل کی مؤثر ردعمل دینے میں ناکامی اس ادارے میں اصلاحات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے تاکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ مستقل رکنیت اور ویٹو کا اختیار سلامتی کونسل کے مفلوج ہونے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات سے مؤثر طور پر نمٹنے میں ناکامی کی اہم وجوہات میں شامل ہے، پاکستان اضافی انفرادی مستقل نشستوں کے قیام کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ اس سے چند ممالک کو خصوصی مراعات حاصل ہوں گی اور ادارے میں عدم مساوات مزید بڑھے گی۔سفیر عثمان جدون نے کہا کہ اس کے بجائے منتخب غیر مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ، منصفانہ علاقائی گردش اور باقاعدہ انتخابات کے ذریعے سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری، جامع اور نمائندہ بنانے کا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اصلاحات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ چند ممالک کا مستقل نشستیں حاصل کرنے پر اصرار اور سمجھوتے کے لیے آمادہ نہ ہونا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ممالک سب کے لیے اصلاحات کے بجائے چند کے لیے مراعات چاہتے ہیں جو ریاستوں کی خودمختار مساوات کے اصول کے منافی ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ اٹلی اور پاکستان کی قیادت میں قائم گروپ ’’یونائٹنگ فار کنسینسس‘‘ (یو ایف سی) کی تجویز تمام رکن ممالک اور خطوں کے جائز مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے پر مبنی ہے، اس کے تحت خطوں کو طویل مدت کی نشستیں دینے کے ساتھ دوبارہ انتخاب کا موقع بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ افریقا کے ساتھ تاریخی ناانصافی کا ازالہ ضروری ہے کیونکہ اسے اس وقت سلامتی کونسل میں کوئی مستقل نشست حاصل نہیں، اسی طرح ایشیا پیسیفک سمیت کم نمائندگی رکھنے والے خطوں اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)جیسے بین العلاقائی گروپوں کو بھی مناسب نمائندگی دی جانی چاہیے۔

سفیر عثمان جدون نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کا مقصد موجودہ عدم مساوات کو دور کرنا، نمائندگی کو وسیع کرنا اور کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے نہ کہ چند ممالک کے مفادات اور مراعات کو مستحکم کرنا۔واضح رہے کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فروری 2009 میں مذاکرات شروع ہوئے تھے، ان میں رکنیت کی اقسام، ویٹو کا اختیار، علاقائی نمائندگی، کونسل کے حجم اور اس کے طریقہ کار سمیت جنرل اسمبلی کے ساتھ تعلقات جیسے پانچ بنیادی امور زیر بحث ہیں۔

سلامتی کونسل اس وقت پانچ مستقل ارکان برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکا جبکہ دو سال کے لیے منتخب ہونے والے 10 غیر مستقل ارکان پر مشتمل ہے۔ گروپ آف فور مستقل نشستوں میں اضافے کا حامی ہے جبکہ یونائٹنگ فار کنسینسس گروپ اضافی مستقل ارکان کی مخالفت کرتا ہے اور طویل مدت کے لیے منتخب ہونے والی غیر مستقل نشستوں پر مشتمل متبادل تجویز پیش کر چکا ہے۔