پاکستان کا موسمیاتی نقصانات میں اضافے کے پیش نظر کانفرنس آف دی پارٹیز میں فوری گرانٹ پر مبنی موسمیاتی مالی معاونت کا مطالبہ

اسلام آباد۔23نومبر (اے پی پی):پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی لحاظ سے کمزور ترقی پذیر ممالک کے لیے تیز رفتار گرانٹ پر مبنی اور قابلِ پیش گوئی مالی معاونت کو یقینی بنائے، شدید موسمی واقعات کے بار بار پیش آنے سے وہ ممالک سب سے زیادہ قرضوں کے دباؤ اور ترقی کی رفتار میں کمی کا شکار ہو رہے ہیں جن کا عالمی اخراج میں …

اسلام آباد۔23نومبر (اے پی پی):پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی لحاظ سے کمزور ترقی پذیر ممالک کے لیے تیز رفتار گرانٹ پر مبنی اور قابلِ پیش گوئی مالی معاونت کو یقینی بنائے، شدید موسمی واقعات کے بار بار پیش آنے سے وہ ممالک سب سے زیادہ قرضوں کے دباؤ اور ترقی کی رفتار میں کمی کا شکار ہو رہے ہیں جن کا عالمی اخراج میں سب سے کم حصہ ہے۔یہ مطالبہ ایک اعلیٰ سطحی ضمنی اجلاس میں کیا گیا جس کا عنوان ’’عملی طور پر نقصانات اور تلافی کا نفاذ کمزور ممالک میں بحالی اور مزاحمت کے لیے مالیاتی معاونت‘‘ تھا۔ یہ اجلاس وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور یونیسیف کے اشتراک سے برازیل کے شہر بیلیم میں ہونے والے عالمی موسمیاتی اجلاس کے موقع پر پاکستان پویلین میں منعقد ہوا۔

اتوار کو وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اپنے خطاب میں سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی عائشہ حمیرہ موریانی نے کہا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں معمولی حصہ رکھنے کے باوجود قومی سطح پر موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2022 اور 2025 کے تباہ کن سیلابوں نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا، وسیع تر انفراسٹرکچر تباہ کیا اور کئی ارب ڈالر کے معاشی نقصانات پیدا کیے۔ان کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک میں اس طرح کی آفات کی شدت اور تعداد اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جن ممالک کا کرۂ ارض کو گرم کرنے میں کوئی کردار نہیں، انہیں سب سے زیادہ بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔

یونیسیف کے اشتراک سے منعقدہ اس تقریب میں نقصانات اور تلافی کے لیے تشکیل دیے گئے نئے فنڈ، سرکاری نمائندوں، ترقیاتی شراکت داروں اور ماہرین نے عالمی نظام کو عملی شکل دینے پر غور کیا۔مقررین نے نشاندہی کی کہ بار بار آنے والے موسمی جھٹکوں نے کئی کمزور معیشتوں کو ’’بحران‘‘ کی صورتحال میں دھکیل دیا ہے جس کے باعث انہیں مناسب گرانٹ امداد نہ ملنے پر بحالی اور تعمیر نو کے لیے قرض لینا پڑ رہا ہے۔ مقررین نے زور دیا کہ نقصانات اور تلافی کے نظام کو مؤثر اور دیرپا بنانے کے لیے نئی، اضافی اور نرم مالی معاونت ناگزیر ہے۔مقررین نے یہ بھی کہا کہ اس بحران کا سب سے بڑا بوجھ بچوں پر پڑ رہا ہے جبکہ پاکستان میں آبادی کا تقریباً نصف اٹھارہ برس سے کم عمر ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل آنے والی آفات غذائیت، صحت، تعلیم اور ذہنی کیفیت پر منفی اثرات ڈال رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی آفات نہ صرف انفراسٹرکچر تباہ کر رہی ہیں بلکہ ایک پوری نسل کے محفوظ اور باعزت زندگی کے حق کو بھی چھین رہی ہیں۔مقررین نے زور دیا کہ بارباڈوس نفاذی طریق کار، جن میں درخواستوں کے سادہ طریقے، رقومات کی تیز تر فراہمی اور لچکدار مالی ونڈوز شامل ہیں، کو ترجیح دی جائے تاکہ کم مالی گنجائش رکھنے والے ممالک کو بروقت اور منصفانہ معاونت مل سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے نظام قائم کیے جائیں جو بتدریج بڑھتے خطرات جیسے گلیشیئر پگھلاؤ، سمندری سطح میں اضافہ اور صحراکاری کے ساتھ ساتھ اچانک آنے والی آفات کا بھی تیزی سے جواب دے سکیں۔

وزارت کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے کہا کہ بحث کا اہم پہلو سب سے زیادہ کمزور طبقات خصوصاً بچوں اور نوجوانوں تک سپورٹ کی براہ راست فراہمی تھا۔ انہوں نے کہا کہ غیر معاشی نقصانات جیسے ذہنی دباؤ، ثقافتی بگاڑ، نقل مکانی اور سماجی ڈھانچے کا ٹوٹنا اب بھی عالمی پالیسی میں مناسب جگہ نہیں پاسکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نقصانات اور تلافی کے فنڈ کے ابتدائی فنڈنگ سائیکل میں دو منصوبے جمع کرانے کی تیاری کا اعلان کیا ہے جو سماجی انفراسٹرکچر کی بحالی اور زرعی شعبہ، سماجی نظام اور آبی وسائل میں مزاحمت بڑھانے پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان ملکی وسائل کو بھرپور طور پر استعمال کر رہا ہے لیکن نقصان کا حجم قومی صلاحیت سے بہت زیادہ ہے۔وزارت نے نقصانات اور تلافی کی مالی معاونت کو ماحولیات نہیں بلکہ قومی بقا کا معاملہ قرار دیتے ہوئے موسمیاتی انصاف اور مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں اور صلاحیتوں کے اصولوں کی پابندی پر زور دیا۔

وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ ’’موسمیاتی انصاف فوری رسائی کا تقاضا کرتا ہے، ہمارے لوگ مزید انتظار نہیں کرسکتے‘‘ اور ترقی یافتہ معیشتوں اور مالیاتی اداروں سے کہا گیا کہ وہ سیاسی وعدوں سے آگے بڑھتے ہوئے عملی معاونت فراہم کریں۔عائشہ حمیرہ موریانی نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اقوام متحدہ، بین الاقوامی شراکت داروں اور موسمیاتی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر ایک منصفانہ عالمی نظام قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ کمزور ممالک کو وہ وسائل مل سکیں جو تعمیر نو اور تیزی سے بدلتے ہوئے موسمی حالات میں ترقی کے لیے ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’موسمیاتی انصاف فوری رسائی کا تقاضا کرتا ہے، ہمارے لوگ مزید انتظار نہیں کرسکتے اور عالمی شراکت داروں پر زور دیا کہ سیاسی وعدوں کو کمزور ترین طبقات کے لیے حقیقی اور عملی مالی سپورٹ میں بدلیں۔

 

مزید خبریں