پاکستان کو شہری کاری کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے لچکدار، سستی رہائش کی ضرورت ہے، ڈپٹی پروگرام منیجر یو این ہیبی ٹیٹ حامد ممتاز خان
پاکستان کو شہری کاری کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے لچکدار، سستی رہائش کی ضرورت ہے، ڈپٹی پروگرام منیجر یو این ہیبی ٹیٹ حامد ممتاز خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):ڈپٹی پروگرام منیجر یو این ہیبی ٹیٹ حامد ممتاز خان نے کہا ہے کہ پاکستان گھروں کی بڑھتی ہوئی قلت، تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری کاری اور بار بار آنے والی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سستے،مناسب اور موسمیاتی لچکدار مکانات کی ضرورت ہے۔اے پی پی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئےانہوں نے کہا کہ تیز رفتار اور اکثر غیر منصوبہ بند شہری کاری غیر رسمی بستیوں اور کچی آبادیوں کی توسیع میں معاون ثابت ہو رہی ہے، جب کہ بار بار آنے والی آفات نے 2005 کے زلزلہ کے بعد سے لاکھوں گھر متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کے رہائشی چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نےکہا کہ ہاؤسنگ کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے جو نہ صرف ہاؤسنگ سپلائی بڑھانے پر توجہ مرکوز کرے بلکہ سستی، مناسب بنیادی خدمات اور موجودہ اور مستقبل کے گھروں کی لچک کو یقینی بنائے۔
حامد ممتاز خان نے بامعنی کمیونٹی کی شرکت کے ذریعے سستی رہائشی سہولیات، گھروں کی قلت کے خاتمہ ، سروسڈ اراضی تک رسائی، فنانسنگ کے مناسب طریقہ کار اور موجودہ غیر رسمی بستیوں کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ شہریوں اور خاص طور پر کم آمدنی والے طبقوں کے لئے مناسب رہائش ، پینے کے صاف پانی، صفائی، ضروری خدمات اور رہائش کا محفوظ ماحول فراہم کرنا چاہیے ۔قدرتی آفات سے محفوظ تعمیرات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ رہائشوں کی منصوبہ بندی، ڈیزائن اور تعمیر میں لچک کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ کمیونٹیز کو زلزلوں، سیلابوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات سے بچایا جا سکے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ کو عمارت کے مناسب معیارات کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ موجودہ کمزور ڈھانچے کوموثر ریٹروفٹنگ کے ذریعے مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آب و ہوا کے مطابق ڈیزائن، توانائی کی بچت کی تعمیر، بہتر نکاسی آب، بارش کے پانی کا انتظام اور مناسب تعمیراتی مواد کا استعمال سیلاب اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے لیے کمیونٹیز کی لچک کو مزید بڑھا سکتا ہے۔قومی ہاؤسنگ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے حامد ممتاز خان نے کہا کہ اس سے رہائش کی استطاعت، فراہمی کی رکاوٹوں، غیر رسمی بستیوں، بنیادی خدمات تک رسائی اور آفات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کیا گیاہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پالیسی کے موثر نفاذ کے لیے وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں، نجی شعبے، کمیونٹیز اور ترقیاتی شراکت داروں کی جانب سے مربوط کوششوں کی ضرورت ہوگی۔پاکستان میں یو این ہیبی ٹیٹ کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنظیم مناسب، سستے ، لچکدار اور پائیدار مکانات کو فروغ دینے کے لیے سرکاری اداروں اور کمیونٹیز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
یو این ہیبی ٹیٹ کے اقدامات میں غیر رسمی بستیوں اپ گریڈ یشن، پانی اور صفائی کی خدمات کی بہتر ی، نکاسی آب اور ٹھوس فضلہ کے انتظام کا استحکام ، بارش کے پانی کے تحفظ کا فروغ اور سیسمک ریٹروفٹنگ جیسے اقدامات کے ذریعے عمارت کی حفاظت کو بڑھانا شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ان مداخلتوں کا مقصد پاکستان بھر میں محفوظ، زیادہ جامع اور پائیدار شہروں اور کمیونٹیز کی حمایت ہے۔






