وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی خودمختاری کے حصول کے لیے 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنا ہوگا، برآمدات میں اضافہ ہی ملک کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور بیرونی مالی امداد پر انحصار سے نجات دلانے میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے ، پاکستان کی معیشت میں بہتری کے مثبت اشاریے …
پاکستان کو معاشی خودمختاری کیلئے 100 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف حاصل کرنا ہوگا، احسن اقبال

مزید خبریں
لاہور۔17اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی خودمختاری کے حصول کے لیے 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنا ہوگا، برآمدات میں اضافہ ہی ملک کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور بیرونی مالی امداد پر انحصار سے نجات دلانے میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے ، پاکستان کی معیشت میں بہتری کے مثبت اشاریے سامنے آ رہے ہیں جنہیں عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے ،صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری طبقے کی بڑھتی ہوئی دلچسپی ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں ایکسپو سنٹر میں ایگاٹیکس پاکستان کے تحت ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تیاری میں استعمال ہونے والی مشینری کی بین الاقوامی نمائش کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نمائش میں 30 ممالک کے شرکاء کی شرکت اور ان کا جوش و خروش اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی صنعت میں سرگرمیاں بڑھ اور عالمی کاروباری برادری پاکستانی صنعتی شعبے میں دلچسپی لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمائش میں کاروباری افراد کی بھرپور شرکت سے یہ احساس مضبوط ہوا ہے کہ ملک میں صنعتی ترقی کا عمل آگے بڑھ رہا اور سرمایہ کاری کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران حکومت نے معیشت کو مشکلات سے نکالنے اور استحکام کی جانب گامزن کرنے کے لیے ایک کٹھن سفر طے کیا ہے، معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں ،اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کامیابیوں کو پائیدار صنعتی ترقی، سرمایہ کاری میں اضافے اور برآمدات کے فروغ میں تبدیل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ موجودہ دور کا ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے صنعتوں کو مضبوط بنانا اور پیداواری عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، صنعتی شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور اس میں ترقی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، تاہم اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔احسن اقبال نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں مسابقت کے لیے پاکستانی مصنوعات کے معیار کو مزید بہتر بنانا اور انہیں بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق متعارف کرانا ناگزیر ہے، مقامی مصنوعات کی ویلیو چین میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور عالمی معیار کے مطابق پاکستانی برانڈز کی تیاری پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ ملک کی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں بہتر مقام حاصل ہوسکے اور ان کی طلب میں اضافہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صنعتی شعبے اور برآمد کنندگان کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے،حالیہ بجٹ میں برآمد کنندگان کے لیے آسانیاں پیدا کی گئی ہیں ،معاشی استحکام میں بہتری کے ساتھ صنعت کاروں کو مزید سہولتیں فراہم کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے عرصے میں ملک میں معاشی استحکام مزید مستحکم ہوگا، جس سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ اور صنعتی شعبے کو ترقی کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔وفاقی وزیر نے زور دیا کہ برآمدات میں اضافہ محض تجارتی سرگرمیوں کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی خودمختاری، مالی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جب ملک اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتے ہوئے عالمی منڈیوں میں زیادہ سے زیادہ مصنوعات فروخت کرے گا تو زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے اور بیرونی مالی معاونت پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کے لیے اپنی صنعتی بنیاد کو وسعت دینا، مصنوعات کی قدر میں اضافہ کرنا، عالمی معیار برقرار رکھنا اور نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا ہوگی، اس مقصد کے لیے حکومت، صنعت کاروں و برآمد کنندگان کے درمیان موثر تعاون اور مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔







