پاکستان کو مقامی اے آئی ماڈلز کی تیاری اور استعمال پر توجہ دینی چاہیے، افتخار علی ملک

سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول اور عالمی مسابقت کے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مقامی مصنوعی ذہانت ماڈلز تیار کرنے اور تمام شعبوں میں ان کے فوری استعمال کی ضرورت ہے۔ اتوار کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کو مصنوعی ذہانت کی اعلی سطح کی ترقی، موجودہ …

لاہور۔11اکتوبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول اور عالمی مسابقت کے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مقامی مصنوعی ذہانت ماڈلز تیار کرنے اور تمام شعبوں میں ان کے فوری استعمال کی ضرورت ہے۔ اتوار کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کو مصنوعی ذہانت کی اعلی سطح کی ترقی، موجودہ نظاموں میں اس کے انضمام اور خصوصی ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ چین کے اوپن اے آئی ماڈلز پاکستان کو اس شعبے میں آگے بڑھنے میں مدد دے سکتے ہیں جس سے جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز خود تیار کرنے پر آنے والے بھاری اخراجات سے بچتے ہوئے مقامی ضروریات کے مطابق ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے محض ٹیکنالوجی کے دائرے سے نکل کر اقتصادی بنیادی ڈھانچے کی حیثیت اختیار کر رہی ہے۔ مستقبل میں جدید ماڈلز، کمپیوٹنگ کی صلاحیت، ڈیٹا اور ہنرمند افرادی قوت تک رسائی قومی مسابقت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا ایک مضبوط نظام تشکیل دے کر موجودہ ماڈلز کو مقامی زبانوں اور ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے جبکہ ترجمے، دستاویزات کی تیاری و پراسیسنگ، تعلیم اور عوامی معلومات کی فراہمی کے لیے موثر ڈیجیٹل ٹولز بھی تیار کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چین اور دیگر برکس ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے تاکہ سستی ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ چینی ٹیکنالوجی سے استفادہ پاکستان کو مغربی کمپنیوں کے زیرِ اثر نظاموں کے متبادل فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم، اس عمل میں ڈیٹا کے تحفظ، اس کے استعمال اور انتظام کے لیے موثر قواعد و ضوابط بنیادی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکمت عملی محض ٹیکنالوجی درآمد کرنے کی بجائے ٹیکنالوجی پر مبنی حل تیار کرنے، انہیں مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنے اور عالمی منڈیوں میں برآمد کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ مصنوعی ذہانت پاکستان کو بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ قدر کی حامل ڈیجیٹل خدمات فروخت کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمپنیوں کو صرف کم لاگت افرادی قوت کی بنیاد پر مسابقت کرنے کی بجائے مالیات، لاجسٹکس، زراعت، تعلیم، صنعت اور دیگر شعبوں کے لیے مخصوص ٹیکنالوجی پر مبنی حل تیار کرنے چاہییں، اس مقصد کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کی جانب سے خاطر خواہ سرمایہ کاری ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو چین سے اے آئی ماڈلز اور کمپیوٹنگ وسائل تک قابلِ استطاعت رسائی، مہارتوں کی منتقلی اور مقامی ڈویلپرز کی معاونت کے لیے موثر اقدامات کرنے چاہییں۔ ساتھ ہی ایسے ضابطے تشکیل دینے چاہییں جو ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور جدت و تحقیق کی راہ میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ کریں۔